بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سردی میں اضافہ، کوئٹہ میں بجلی غائب، گیس پریشر میں کمی سے شہریوں کو مشکلات

کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں یخ بستہ ہوائیں چلنے سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے محکمہ موسمیات کی جانب سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری کی پیشن گوئی کی تھی محکمہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارش اور برف باری کے امکان کی وجہ سے متعلقہ اضلاع الرٹ جاری کرتے ہوئے صورت حال سے نمٹنے کے لئے تمام اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے گزشتہ روز کوئٹہ شمالی علاقوں میں یخ بستہ ہوائیں چلنے کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات بڑھ گئیں ہیں اور گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے شہریوں کو سردی سے بچنے اور خواتین کو امور خانہ داری میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لوگ شدید سردی سے محفوظ رہنے کے لئے سوختنی لکڑی اور ایل پی جی گیس کی مہنگے داموں خریداری کرکے استعمال کرنے پر مجبور ہیں پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ اضلاع میں وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور صوبائی داخلہ اور پی ڈی ایم اے میر ضیااللہ لانگو کی ہدایت پر ایمرجنسی نافذ کرکے ریسکیو فورس کے ریسکیو ویٹر سپورٹنگ سٹاف کے علاوہ محکمے کے آفیسران کو بھی اپنے دفاتر میں موجود رہنے کی ہدایت کی ہے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نصیر احمد ناصر مذکورہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام صورت حال اور اقدامات کا خود جائزہ لے رہے ہیں اور متعلقہ آفیسران اور عملے کو ہدایات جاری کر رہے ہیں جس کا مقصد کسی بھی علاقے میں بارش یا برف باری کی وجہ سے کوئٹہ کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لئے ٹارگٹڈ جگہوں پر پہلے سے عملہ اور ہیوی مشینری پہنچا دی گئی ہے اور پی ڈی ایم اے کے تمام ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کرکے ان کے ڈیوٹیوں کا ٹائم بڑھا دیا گیا ہے صورت حال کو دیکھتے ہوئے احتیاط کے پیش نظر متعلقہ علاقوں میں ریلیف کا سامان بھی پہنچا دیا گیا ہے حالانکہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ریسکیو فورس اور متعلقہ محکموں سے مل کر موک مشقیں بھی کر رہے ہیں شہری غیر سفر کرنے سے گریزکریں کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے دیئے گئے کنٹرول رومز کے نمبروں پر رابطہ کرکے فوری طور پر مدد طلب کی جاسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں