پی آئی اے یورپی یونین کی طرف سے لگائی گئی پابندی ختم کروانے کیلئے کوشاں

اسلام آباد (انتخاب نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا بازی اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے امور پر ایک اہم اجلاس، وزیراعظم نے ابتدائی طور پر ملک تین بڑے ہوائی اڈوں, جناح انٹرنیشنل کراچی, اسلام آباد انٹرنیشنل اور علامہ اقبال انٹرنیشنل لاہور کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آؤٹ سورسنگ کا عمل شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی. اجلاس کو پاکستانی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ دنیا بھر میں ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ معمول کا منافع بخش عمل ہے اور اسے انٹرنیشنل بیسٹ پریکٹسز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر ملک کے دو بڑے ہوائی اڈوں جناح انٹرنیشنل کراچی اور اسلام آباد انٹرنیشنل کی آؤٹ سورسنگ کی جائے گی اور یہ عمل پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کیا جائیگا. ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ سے ناصرف حکومت کو منافع ملے گا بلکہ ائرپورٹس پر مسافروں کو بین الاقوامی سطح کی سہولیات بھی میسر آئیں گی. وزیراعظم نے ابتدائی طور پر ملک تین بڑے ہوائی اڈوں, جناح انٹرنیشنل کراچی, اسلام آباد انٹرنیشنل اور علامہ اقبال انٹرنیشنل لاہور کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آؤٹ سورسنگ کا عمل شروع کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے اس سلسلے میں تیز تر اقدامات کریں اور اس تمام عمل میں شفافیت کا خاص خیال رکھا جائے، ایئر پورٹس کی آؤٹ سورسنگ کا عمل مؤثر اور ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے حوالے سے وزیراعظم نے ایک خصوصی کمیٹی بنانے کی ہدایت کر دی جس کی صدارت خود وزیراعظم کرینگے، کمیٹی میں وفاقی وزیر ہوا بازی خواجہ سعد رفیق, وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال, وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ, وفاقی سیکرٹری ہوا بازی ڈویژن اور وفاقی سیکرٹری منصوبہ بندی شامل ہونگے.اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی کارکردگی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ پی آئی اے نے سال 2022 کے دوران 172 بلین روپے کا ریونیو حاصل کیا جو کہ پی آئی اے کی تاریخ کا اب تک کا سب سے زیادہ ریونیو ہے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پی آئی اے کی فلیٹ میں چار اے- 320 جہاز شامل کیے گئے ہیں اور ایئر لائن کے نیٹ ورک میں بھی توسیع کی گئی ہے اور پی آئی اے اس وقت ہفتہ وار 330 فلائٹس آپریٹ کر رہی ہے، اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پی آئی اے کو منافع بخش ایئر لائن بنانے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے ;پی آئی اے پر یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کی طرف سے لگائی گئی پابندی ختم کروانے کے حوالے سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے. علاوہ ازیں اجلاس کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی فلیٹ میں وائڈ باڈی ایئر کرافٹس شامل کئے جا رہے ہیں. اجلاس کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی برانڈ امیج کی احیاء کے لئے پلان تیار ہے.اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کراچی اور لاہور کے ائرپورٹس کے لاؤنجز کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں