گوادر میں مواصلاتی نظام بحال اور غیر اعلانیہ کرفیو ختم کیا جائے، مذہبی جماعتیں

کوئٹہ، جعفر آباد، ژوب (انتخاب نیوز) جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام کی جانب سے گوادر کی غیر یقینی صورتحال پر اپنا شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی کے تحت ملک بھر میں گوادر میں حق دو تحریک کے دھرنے پر تشدد اور گرفتاریوں کیخلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ اس حوالے سے جے یو آئی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری ممبر قومی اسمبلی پارلیمانی سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ گوادر میں مواصلاتی نظام بحال اور غیر اعلانیہ کرفیو ختم کیا جائے، گوادر کے لوگ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، بڑے بڑے ٹرالر کے ذریعے ان کے روزگار کا واحد ذریعہ بھی چھینا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار دنوں سے گوادر میں شہری حقوق شدید متاثر ہیں احتجاج پر بیٹھے لوگوں کے ساتھ قانون کے دائرے میں مذاکرات کیے جائیں ان پر تشدد کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ گوادر پاکستان کا مستقبل ہے، گوادر متاثر ہوگا، تو پورا ملک متاثر ہوگا۔ مولانا محمود شاہ نے احتجاجی مظاہرین سے بھی اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں اور پرامن احتجاج کے ذریعے گوادر کے بنیادی حقوق کو اجاگر کرتے رہیں۔ علاوہ ازیں گوادر حق دو تحریک کی حمایت کیلئے جماعت اسلامی جعفر آباد کے زیر اہتمام ڈیرہ اللہ یار میں ایک پر امن ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت جماعت اسلامی جعفرآباد کے ضلعی امیر محمد امین بگٹی کر رہے تھے ریلی کے شرکا کے ہاتھوں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت کے خلاف نعرہ درج تھے ریلی جماعت اسلامی دفتر سے نکال کر مختلف راستوں سے ہوا مزدور چوک پر پہنچ کر جلسہ کی شکل اختیار کر لی ریلی کے شرکا نے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی اس موقع پر محمد امین بگٹی میر مٹھا خان بادینی عرفان علی ابڑو و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر حق دو تحریک پر ظلم کی انتہا کردی گئی، بلا جواز لاٹھی چارج، گرفتاریاں اور جھوٹی ایف آئی آر اندراج کرنے پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ گوادر عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہم اس تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں حکومت بلوچستان عوام کے جائز حقوق دیں اور نہ کہ ان پر لاٹھی چارج کی جائے، حکومت بلوچستان فوری طور پر گوادر کے جائز حقوق تسلیم کیے جائیں ورنہ جماعت اسلامی پورے ملک کے اندر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔دریں اثناء ژوب میں گوادر عوام اور مولانا ہدایت الرحمن سے اظہارِ یکجہتی کے لئے جماعت اسلامی کا جامع مسجد سے ریلی نکالی گئی جو مین چوک پر احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کر گئی،مظاہرے سے مولانا عبدالناصر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو ماہ سے پرامن دھرنا جاری تھا حکومت کے کچھ شرپسند عناصر جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں غیروں کے اشاروں پر وزیر داخلہ کے کہنے پر گوادر عوام پر دھاوا بول دیا عورتوں بچوں گھر چادر چار دیواری کو پامال کیا گیا عورتوں کی عصمت کو تار تار کیا گیا 10000ہزار سے زائد سیکورٹی گوادر میں تعینات کی گئی ہے اور وہاں پر کرفیو نافذ کیا گیا ہے مولانا ہدایت الرحمن صرف اپنے جائز حقو ق چاہتے ہیں جو آئین پاکستان ہمیں دیتا ہے حکومت لشکر کشی میں تو ماہر ہے مگر ایک سال پہلے معاہدہ کیا گیا تھا اس پر کوئی عمل در آمد نہیں ہورہا مطالبات واضح ہیں ٹرالر مافیا کو لگام دو،لاپتہ افراد کو بازیاب کراؤ، ساحل سمندر پر گوادر عوام کو حق ہونا چاہیے صاف پانی فراہم کیا جائے حکومت مسائل حل کرنے کے بجائے مزید حالات خراب کررہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں