حکومت بلوچستان کی غفلت اور عدم توجہ، خوردنی اشیا اور آٹے کی قیمت آسمان کو چھونے لگی، غریب فاقہ کشی پر مجبور

کوئٹہ، ژوب (انتخاب نیوز) حکومت بلوچستان کی غفلت اور عدم توجہی کے باعث خوردنی اشیا کی قیمتیں اسمان کو چھوم رہے ہیں 48کلو اٹے کی تھیلی 6300روپے تک پہنچ گئی غریب مزدور فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ژوب کے عوامی وسماجی حلقوں نے صوبائی حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ صوبہ پنجاب نے بلوچستان کو آٹے کی ترسیل برامدگی پر پابندی کے باعث 48کلو اٹے کی تھیلی 6300تک پہنچ گئی ہے پنجاب اور خیبرپشتونخوا کے چیک پوسٹوں پر ٹرکوں سیلاکھوں روپے وصول کررہے ہیں جبکہ ہمارے بڑے بھائی احسان فروش پنجاب صوبہ بلوچستان سے قدرتی معدنیات کوئلہ کرومائٹ قدرتی گیس سے بلاخوب خطر زبردست استفادہ حاصل کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان کو تاحال علم نہیں کہ انکے صوبے کے عوام کس ازیت سے گزر رہے ہیں صوبہ بھر میں اٹے کا بحران نے غریب مزدوروں کو فاقہ کشی پر مجبور کردئیے ہیں ہمارے منسٹر صاحبان اور سیکرٹری فوڈ خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں جو ایک المیہ اور حکومت کیلئے سوالیہ نشان ہے انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا کہ صوبہ پنجاب کی جانب اٹے کی ترسیل پر فوری طور پر پابندی ہٹا دی جائے اور اٹے کی قیمتوں میں استحکام لائی جائے بصورت دیگر بلوچستان کے عوام قدرتی معدنیات کوئلہ گیس کروماٹٹ پر پابندی اور حکومت کے خلاف سخت ترین احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں