سالِ نو عزم نو؛ بساک نے نئے سال کا آغاز کتب میلے کے انعقاد کے ساتھ کر دیا۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے سالِ نو کو خوش آمدید کہتے ہوئے کتاب کاروان کے نام سے شال سریاب مل میں کتاب اسٹال لگایا گیا۔ سال کے پہلے دن کتابوں کا اسٹال لگا کر علم دوستی کا پیغام دیا گیا۔نئے سال کے پہلے دن کی مناسبت سے کتب میلے کا انعقاد کیا گیا اور نئے سال کی شروعات کتب بینی سے کرتے ہوئے بلوچستان کتاب کاروان کے نام سے سریاب مِل کوئٹہ میں کتب میلے کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبہ، استاد، نوجوان سمیت بچوں نے شرکت کرتے ہوئے اپنی پسند کی کتابیں خریدیں ۔سال کا اختتام بلوچستان بھر سے درجنوں طلباء کی جبری گمشدگیاں اور گوادر کے سر زمین پہ کشت و خون جیسے نہ مٹنے والے یاد دے کر چلا گیا جبکہ سال نواسی جبر کے تسلسل میں پلنے والے نئے اُمیدوں کا تسلسل ہو، روشنیوں کا سال ہو، اور ظلم کی شکست و علم کی جیت ہو۔
کسی بھی فکر کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے سمجھا جائے، اور اس فکر میں موجود تعلقات کو یکساں رکھنے کی کوشش کی جائے۔ جیسے زمین، تاریخ، ثقافت، اور زبان نے ہمیں متحد کیا ہے، اُسی طرح کتب بینی ہمیں یکساں سوچ و فکر دیتی ہے۔بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کوئٹہ زون نے نئے سال کے آغاز میں تین روزہ کتب میلے کا اعلان کرتے ہوئے پہلے دن کوئٹہ سریاب مِل میں کتب میلہ منعقد کیا گیا جس میں کتب بینی کے کلچر کو پروان چھڑانے کے لئے کتاب تبصرے کا سیشن بھی شامل تھا جس میں کتاب ریویوز بھی پیش کیے گئے تاکہ نوجوانوں کے اندر کتاب پڑھنے کا شوق پروان چھڑیں۔
یہ سال نو، تلخیوں کو دور کرنے، یکجاں و یکمشت ہونے، علم و عمل کے روشنیوں سے اندھیروں سے لڑنے کا سال ہو ، کتاب کاروان کے بینر تلے آج ایک بک اسٹال سریاب مل میں لگایا گیا، اور 2-3 دسمبر کو مستونگ میں اسی تسلسل کو جاری رکھ کو کتاب اسٹال لگائے جائینگے۔


