نوشکی میں بجلی کی طویل بندش اور وولٹیج کی کمی بیشی، بجلی سے چلنے والے آلات خراب ہونے لگے
نوشکی (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر میر خورشید احمد جمالدینی نے شدید سردی میں بجلی کی طویل اور غیراعلانیہ بندش اور آنکھ مچولی کی مذمت کرتے ہوئے کہا اس سخت سردی میں واپڈا نوشکی کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور فالٹ کے نام پر گھنٹوں بجلی غائب اور ٹو فیز ہونے کی وجہ سے زمینداروں کے ٹیوب ویلز کےسمرسیبل اور گھریلو صارفین کے کئی قیمتی سامان ناکارہ ہونے کی وجہ سے غریبوں کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انھوں نے کہاکہ کہ سٹی 1۔2 میں زرعی ٹیوب ویلز نہ ہونے کے باوجود ہر ایک آدھا گھنٹہ بعد 2گھنٹے بجلی بندش معمول بن گیا، فالٹ کے نام پر اکثر بجلی گھنٹوں نہیں ہوتی، گھروں اور مساجد میں پانی ناپید، شہریوں کو شدید مشکلات سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دیہی علاقوں کے فیڈز کے ٹائمنگ میں 2،2 گھنٹے کی کمی کی ہے۔ جو کہ زمینداروں کے ساتھ ظلم وجبر کے مترادف ہے۔ اس سے پہلے ڈسٹرکٹ کے زمینداروں کو سیلاب نے کروڑوں روپے کا مالی نقصانات پہنچیں تھے اب گندم کی کاشت کا وقت ہے زمینداروں کو کافی پانی کی ضرورت ہے لیکن واپڈا نوشکی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے ان کے پریشانی میں کافی اضافہ کیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ کہ اگر واپڈا نوشکی نے اپنا غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم نہیں کیا تو اس کے خلاف سخت سے سخت احتجاج کریں گے آخر میں اس نے وفاقی وزیر توانائی ایم این اے حاجی محمد ہاشم نوتیزئی صاحب نے مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈسٹرکٹ نوشکی میں واپڈا کے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی نوٹس لیں۔


