نیشنل پارٹی ہزارہ قوم سے رشتہ جوڑ چکی، قوم کو بند گلیوں تک محدود کرنا انسانی حقوق کی پامالی ہے، ڈاکٹر مالک

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے سربراہ و سابق وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے اعزاز میں تنظیم نسل نو ہزارہ مغل نے عصرانے کا اہتمام کیا۔تنظیم نسل نو ہزارہ کے چیرمین نادر علی نے نیشنل پارٹی کے سربراہ کو تنظیم نسل نو کے مختلف شعبوں سے متعارف و آگہی فراہم کیا۔مس حوا سخی نے تنظیم کے مختلف شعبوں و کارکردگی کے مناسبت سے پریزنٹیشن دی۔عصرانے میں ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے معروف سیاسی سماجی علمی شخصیات موجود تھے۔جن میں سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری و میجر ریٹائرڈ نادر علی ہزارہ ڈاکٹر نوروز علی گلزاری عنایت چینگزئی امجد علی بیگ شوکت حیدر حاجی عبدالواحد سمیت تنظیم کے عہدیداران موجود تھے اس موقع پر نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے علمی ادبی سماجی تخلیقی و ٹیکنالوجی کے مناسبت سے خدمات کو سہراتے ہوئے کہا کہ تنظیم جو تعمیری کردار ادا کررہی ہے وہ انتہائی قابل رشک و تعریف ہے۔نیشنل پارٹی علم و عمل کی پرچار ہے اور ہر اس فرد کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو علم کے چراغ روشن رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں 7 زبانوں کو تعلیم کا حصہ بنایا تاکہ بچے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرسکے اور اپنے زبان کی ترقی و ترویج کیلیے کرادر ادا کریں اسی طرح اکیڈمیز خصوصا قومی بنیاد پر قائم اداروں کی بھرپور مالی معاونت کی کہ وہ زبان و ادب کی خدمت کرسکے۔ لیکن افسوس ہے کہ تنظیم نسل نو ہزارہ مغل سے شناسائی نہ ہونے پر ان کو اس وقت نہ سہرا سکا۔کیونکہ ہمارا براہ راست رابطہ یا رسائی نہ تھا۔اب نیشنل پارٹی میں ڈاکٹر رمضان ہزارہ و دیگر دوستوں کی وجہ سے نیشنل پارٹی ہزارہ قوم کے ساتھ جوڑ چکی ہے اور اس رشتے کو نیشنل پارٹی مضبوط سے مضبوط تر بنائے گی۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں سابق وزیراعلی نے کہا کہ ہزارہ صلاحیتوں سے آراستہ قوم ہے جس پر نیشنل پارٹی کو مکمل فخر ہے لیکن بدقسمتی سے کچھ مخصوص عناصر ہزارہ قوم کی صلاحیتوں سے خائف ہیں اور وہ اس حد تک گزر گئے کہ ایک روشن خیال ترقی پسند علم دوست اور بہترین اقدار کے مالک قوم کو انتہا پسندی کا شکار بنا دیا۔جو کہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ قوم کو بند گلیوں محدود کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ ان علمی ادبی سماجی تخلیقی تکنیکی پہلوؤں سے سماج و صوبے کو محروم رکھنا ہے جو ہزارہ قوم کے پاس ہے۔نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی انسانیت پر یقین رکھتی ہے۔ اور میر غوث بخش بزنجو و میر عبدالعزیز کرد جیسے عظیم اکابرین کی انسانی دوستی پیار و محبت اور بھائی چارے کے فلسفے کو آگے بڑھانے کو مقصد بنایا ہے۔ہزارہ قوم نیشنل پارٹی کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ صوبے بلخصوص کوئٹہ کو انسانیت کے عظیم رتبے میں تبدیل کردے۔اور جہاں ہر انسان سیاسی سماجی معاشی ترقی کرسکے۔تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے چیرمین نادر علی نے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ و دیگر قاہدین کو تنظیم کے سیکرٹریٹ آمد پر خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے اپنے دور اقتدار میں ثابت کیا کہ وہ سیاسی بصیرت و دوراندیشی سے مکمل آراہستہ ہے۔اور گڈ گورننس کو ترجیح دی۔جس کی بدولت بلوچستان کے گھمبیر حالات امن و سکون میں تبدیل ہوگئے۔ڈاکٹر مالک بلوچ نے نمایاں تعمیری اصلاحات و اقدامات کیئے۔تعلیم کے شعبے میں یونیورسٹیز و میڈیکل کالجز سمیت بجٹ تاریخی سطح پر لے گئے۔انہوں نے کہاکہ تنظیم نسل نو ہزارہ مغل مکمل معترف ہے کہ نیشنل پارٹی ایک مکمل جمہوری و انسان دوست جماعت ہے جو سیاست میں اصولوں و نظریات پر کاربند ہے۔انہوں نے کہا کہ موروثی سیاست درحقیقت عوام کو سیاسی حق سے محروم رکھنے کا نام ہے۔تنظیم نسل نو ہزارہ مغل تعمیری تنظیم ہے اور نیشنل پارٹی کے قاہدین کی سیکرٹریٹ آمد کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔نیشنل پارٹی کے سربراہ کے ہمراہ نیشنل پارٹی کے مرکزی ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی سیکرٹری آغا گل مرکزی خواتین سیکرٹری یاسمین لہڑی ڈاکٹر رمضان ہزارہ صوبائی ترجمان علی احمد لانگو ممبر مرکزی کمیٹی میران بلوچ صوبائی خواتین سیکرٹری کلثوم نیاز بلوچ صدیق کیھتران حنیف کاکڑ ریاض زہری سلمہ قریشی سعدیہ بادینی حاجی جانان بلوچ اسحاق چینگزئی اسحاق حیدری جمعہ ہزارہ دوست محمد ہزارہ سکینہ علی صدیقہ سائرہ بتول فاطمہ چینگزئی بھی تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں