محسن داوڑ کو تاجکستان جانے سے روکنے کا معاملہ، وزارت داخلہ کی غیر مشروط معافی مسترد

اسلام آباد (انتخاب نیوز) قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی نے چیرمین خارجہ امور کمیٹی محسن داڑڑ کو تاجکستان جانے سے روکنے کے معاملے پر وزارت داخلہ کی جانب سے غیر مشروط معافی کو مسترد کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ،سیکرٹری خارجہ امور اور ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کر لیا ہے،کمیٹی نے چیرمین داخلہ کمیٹی احمد حسن دیہڑ کو فوری طور پر سیکورٹی فراہم کی ہدایت کرتے ہوئے ایف آئی آرز کے اندراج پر آئی جی پنجاب اور سی سی پی او ملتان کو طلب کر لیا۔کمیٹی کا اجلاس چیرمین رانا محمد قاسم نون کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس کو رکن اسمبلی اور خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین محسن داوڑ نے بتایا کہ ایف آئی اے حکام نے تاجکستان میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت سے روکتے ہوئے بتایا کہ آپ کا نام ای سی ایل میں شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے قبل سویٹزر لینڈ سمیت کئی ممالک کے دورے کرچکا ہوں مگر تاجکستان نہیں جانے دیا گیا جس پر چیرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے کہ قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے چیرمین کو کس حیثیت سے روکا گیا ہے کیا اس سے پاکستان کی بدنامی نہیں ہوگی اس موقع پر ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ جو بھی نام ای سی ایل میں شامل ہوگا ہم اس کو بیرون ملک جانے سے روکتے ہیں ہمارا کام صرف احکامات پر عمل درآمد کران ہے اس موقع پر وزارت داخلہ کے سینیئر جائنٹ سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ رکن اسمبلی کو صرف سوئٹزر لینڈ جانے کی اجازت کابینہ کی جانب سے دی گئی تھی جو کہ صرف دو ماہ کیلئے تھی دیگر ممالک جانے کی اجازت نہیں تھی انہوں نے بتایا کہ یہ جو واقعہ ہوا ہے افسوسناک ہے اور ہم اس پر رکن اسمبلی سے معذرت کرتے ہیں اس موقع پر رکن اسمبلی محسن داوڑ نے کہاکہ بتایا جائے کہ مجھے روکنے کے احکامات کس نے دئیے تھے اور میرے باہر جانے سے وفاق کو کیا نقصان پہنچ رہا تھااس موقع پر کمیٹی کے رکن اسامہ قادری نے کہاکہ جس نے بھی رکن اسمبلی کو باہر جانے سے روکا ہے اس کو سزا ملنی چاہیے صرف معافی مانگنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگاچیرمین کمیٹی نے کہاکہ اگر رکن اسمبلی تاجکستان کیلئے سیکورٹی رسک ہے تو اس کو خارجہ امور جیسی اہم کمیٹی کا چیرمین کیوں بنایا گیا ہے انہوں نے کہاکہ رکن اسمبلی کئی یورپی ممالک کے دورے کرچکے ہیں اور دبئی میں ایک جلسے میں بھی شرکت کی ہے مگر کسی نے نہیں روکا اب ایسی کیا مجبوری بن گئی تھی کہ انہیں روکا گیا تھااس موقع پر کمیٹی نے وزارت داخلہ کی جانب سے غیر مشروط معافی کو مسترد کرتے ہوئے اگلے اجلاس میں سیکرٹری داخلہ سمیت سیکرٹری خارجہ امور،ڈی جی ایف آئی اے اور ایڈیشنل ڈی جی امیگریشن کو طلب کر لیا،کمیٹی نے داخلہ کمیٹی کے چیرمین احمد حسین دیہڑ کی جانب سے لاہور پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آرز انکوائری کے باوجود ختم نہ کرنے اور سی سی پی او ملتان کی جانب سے دھمکی آمیز جواب کا نوٹس لیتے ہوئے رکن قومی اسمبلی کو فوری طو رپر سیکورٹی فراہم کرنے اور معاملے پر آئی جی پنجاب سمیت آر پی او لاہور اور سی سی پی او ملتان کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا کمیٹی نے رکن اسمبلی رومینہ خورشید عالم کے خلاف سوشل میڈیا اور الیکٹرانیک میڈیا پر بے بنیاد پراپیگنڈہ کے معاملے پر کمیٹی تشکیل نہ دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کمیٹی کی جانب سے واضح ہدایات کے باوجود کمیٹی نہیں بنائی گئی اس موق عپر چیرمین کمیٹی نیسیکرٹری اطلاعات کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کمیٹی میں ایف آئی اے،پی ٹی اے،آئی ٹی اور وزارت داخلہ کے نمائندوں کو شامل کرنے کی ہدایت کی کمیٹی نے رکن اسمبلی صلاح الدین ایوبی کی جانب سے ان کے لاجز میں اسلام آباد پولیس کے داخل ہونے سے متعلق تحریک استحقاق کو نمٹاتے دیا اس موقع پر چیرمین کمیٹی نے کہاکہ رکن اسمبلی نے اسلام آباد پولیس کے ساتھ صلح کر لی ہے مگر وہ سابق وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف استحقاق لائے ہیں سابق وزیر اعظم اسمبلی میں نہیں آتے ہیں تو وہ کمیٹی میں کیوں آئیں گے کمیٹی نے رکن اسمبلی رمیش لعل کی جانب سے آڈیالہ جیل انتظامیہ کے خلاف استحقاق مجروح ہونے کے معاملے پر آئی جی جیل خانہ جات سمیت سپیشل سیکرٹری داخلہ برائے جیل خاجہ جات اور سپرنٹنڈنٹ آدیالہ جیل کو طلب کر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں