کالجزمیں تعلیم کی زبوں حالی اور مطالبات کے حق میں بی پی ایل اے کی احتجاجی ریلی
کوئٹہ (انتخاب نیوز)بلوچستان میں تعلیمی پیش رفت اور ترقی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے ۔ پروفیسر طارق بلوچ سیکرٹری کالجز کی نااہلی کی سزا طلباء و طالبات کو کیوں دی جارہی ہے؟ سول سوسائٹی نمائندوں کا احتجاج سے خطابکوئٹہ ( پریس ریلیز ) بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی احتجاجی ریلی کی قیادت سائنس کالج سے پریس کلب تک صدر بی پی ایل اے پروفیسر طارق بلوچ ، جنرل سیکرٹری پروفیسر رازق الفت کاکڑ ، نائب صدر پروفیسر اسماعیل جاموٹ اور دیگر مرد و خواتین کابینہ کی قیادت میں سینکڑوں کالج اساتذہ کے ہمراہ بلوچستان میں بدترین تعلیمی صورت حال کے پیش نظر نکالی گئی جو پریس کلب میں ایک بڑے جلسے کی شکل اختیار کرگئی۔ احتجاجی ریلی سے بی پی ایل اے کےصدر پروفیسر طارق بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالجز ڈیپارٹمنٹ اور گزشتہ کابینہ کے ساتھ منظور شدہ منٹس پر موجودہ سیکرٹری کالجز عملدرآمد پر مسلسل انکار کررہا ہے بلکہ دھمکیوں کے ساتھ ٹارگٹڈ اور انتقامی تبادلوں بھی اتر آیا ہوا ہے۔ پروفیسر طارق بلوچ نے کہا کہ بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کالج اساتذہ کی واحد نمائندہ تنظیم ہے جس کے عہدہ دار اور نمائندے کسی بھی دوسری ملازم تنظیموں کی طرح باقاعدہ جمہوری انداز میں منتخب ہوتے ہیں جو کسی بھی ملازم برادری کے مفادات اور ان کے بنیادی آئینی اور قانونی حقوق کی پاسبانی کرتی ہے اور مختلف فورموں اور متعلقہ اداروں میں اپنے اراکین کی ترجمانی بھی کرتی ہے، موجودہ سیکرٹری کالجز نے جس طرح سے بلوچستان کے سب پڑھے لکھے ادارے سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور ان کے نمائندوں کی توہین اور تضحیک شروع کررکھی ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ اس صوبے اور یہاں کے طلباء و طالبات سے زیادہ اپنے ذاتی مفاد سے زیادہ دلچسپی اور لگاؤ رکھتا ہے جس کی وجہ سے آج محکمہ تعلیم بدترین بحران سے دوچار ہوگیا ہے۔ پروفیسر طارق بلوچ نے واضح کیا کہ بی پی ایل اے اپنی آئینی حیثیت اور اختیار سے بخوبی آگاہ ہے لہذا کسی کی نااہلی اور اس کی فرعونیت کے آگے ہم کبھی بھی سر تسلیم خم نہیں کریں گے اور بلوچستان کی تعلیمی ترقی کو بلوچستان کے مستقبل کی ضمانت سمجھتے ہوئے ہر فورم پر آواز اٹھاتے رہیں گے جس کے لیے پورے بلوچستان میں ہر ڈسٹرکٹ اور ڈویژن میں مسلسل بنیادوں پر ایک نااہل سیکرٹری اور اس کے حواریوں کو بے نقاب کرتے رہیں گے ۔ بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری پروفیسر رازق الفت کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کی بیوروکریسی کی تاریخ میں آج سے پہلے ایسی بدترین ، غیر پیشہ ورانہ اور نااہل رویہ دیکھنے کو نہیں ملا ہے کہ جہاں بلوچستان کے حقیقی تعلیمی مسائل پر جائز بنیادوں پر نشاندہی کرنے پر سیکرٹری کالجز چند کرپٹ اور بعض شکست خوردہ عناصر کے کہنے پر اپنے منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے انتقامی کارروائیوں پر اتر آتا ہے اور مختلف حیلوں بہانوں سے تبادلے، توہین اور دھمکیوں سے اپنی اہلیت ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے انہوں نے کہا کہ آج کی یہ کامیاب احتجاجی ریلی ثابت کرتی ہے کہ کالج اساتذہ کی آواز کو ہرگز ہرگز نہیں دبایا جاسکتا ہے بلوچستان کے کالج اساتذہ ہمیشہ کی طرح بی پی ایل اے کے پلیٹ فارم پر منظم و متحد ہیں اور کسی کو خام خیالی اور خوش فہمی میں رہنے کا شوق کبھی بھی پورا نہیں پونے دیں گے۔ پروفیسر رازق الفت کاکڑ نے کہا کہ کتنے شرم کی بات ہے کہ موجودہ سیکرٹری کالجز اور اس بدعنوان ٹیم نے اس بار انتقام اور طاقت کےنشے میں معزز خواتین پروفیسروں کو بھی نہیں بخشا جس سے اس کی ذہنی و اخلاقی حیثیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی اس احتجاجی ریلی سے مختلف سرکاری ملازمین کی تنظیموں ، سول سوسائٹی نمائندوں سمیت سیاسی و سماجی قائدین اور کارکنوں نے بھی خطاب کیا جن میں’سیسا بلوچستان کے صدر قاسم خان’صدر اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹ فیڈریشن عبداللہ درانی’پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری قادر آغا’صوبائی ڈپٹی سیکریٹری پی کے میپ حضرت علی’جی ٹی اے آئینی کےرہنما منظور راہی’عبدالہادی کاکڑ’اخوندزادہ عبدالمتین اور دیگرشامل تھے انہوں نے سیکریٹری کالجز کی جانب سےکالج اساتذہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سب کو تعلیم دشمن پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا اور اپنے ہر ممکن تعاون اور مدد کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک موقع پر کالج اساتذہ کو تنہا نہیں چھوڑا جاسکتا ہے ۔


