3 سال تک جوبائیڈن نے 10 لاکھ ڈالرز لیے مگر طلبہ کو ایک مرتبہ بھی نہ پڑھایا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے صدر جوبائیڈن نے ماضی میں یونیورسٹی آف پینسلوینیا سے تنخواہ کے طور پر 3 سال میں 10 لاکھ ڈالرز تو لیے مگر طلبہ کو ایک مرتبہ بھی نہ پڑھایا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق جوبائیڈن کو نائب صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد یونیورسٹی آف پینسلوینیا نے بطور پروفیسر 10 لاکھ ڈالر دیے تاہم انہوں نے یونیورسٹی میں کوئی کلاس نہ لی۔ اس حوالے سے امریکی صدر نے گزشتہ روز ایک اجلاس میں بتایا کہ نائب صدر رہنے کے 4 سال بعد وہ پینسلوینیا میں پروفیسر تھے۔2 سال کے دوران امریکی یونیورسٹی نے پروفیسر بائیڈن کو 10 لاکھ ڈالرز ادا کیے تاہم انہوں نے ایک مرتبہ بھی طلبہ کو نہیں پڑھایا۔ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جوبائیڈن کو 2017 میں 3 لاکھ 71 ہزار 159 جبکہ 2018 اور 2019 میں 5 لاکھ 40 ہزار 484 ڈالر دیے گئے۔رپورٹس کے مطابق 2017 میں جوبائیڈن کو اعزازی پروفیسر کا عہدہ دیا گیا تھا۔یاد رہے کہ جو بائیڈن سابق امریکی صدر بارک اوباما کے دور میں نائب امریکی صدر تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں