پاکستان میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری میں غیر ملکیوں کو بھی شمار کیا جائے گا، ادارہ شماریات
لاہور (انتخاب نیوز) ملک میں پہلی مرتبہ ہونیوالی ڈیجیٹل مردم شماری میں غیر ملکیوں کو بھی شمار کیا جائے گا، مردم شماری کے سلسلہ میں تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے جس پر اخرجات کا تخمینہ 24 ارب روپے لگایا گیا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے سربراہ ڈاکٹر نعیم الظفر کا کہنا ہے کہ نئی ڈیجیٹل مردم شماری مارچ میں ہوگی، اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے۔مردم شماری کیلئے 628 تحصیلوں میں 495 مراکز قائم کر دئیے گئے ہیں، ڈیجیٹل مردم شماری کے لئے ایک لاکھ 26 ہزار خصوصی ٹیبلٹس کا انتظام کیا گیا، جبکہ فوج صرف سکیورٹی کے فرائض انجام دے گی۔چیف شماریات کے مطابق چھٹی مردم شماری میں شکوک و شبہات تھے، اس مرتبہ عالمی معیار کی شفافیت ہماری ترجیح ہے، ہم ہر ایک کو اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق گنیں گے، یہ مردم شماری وفاق کو استحکام اور شکوک و شبہات کو کم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے ساتھ شہریوں کا معاشی ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا، اس سلسلے میں مجموعی طور پر 32 سوالات پوچھے جائیں گے۔وفاقی ادارہ شماریات کے حکام کے مطابق نئی مردم شماری کیلئے قومی شناختی کارڈ کی شرط نہیں ہوگی، کسی بھی علاقے میں 6 ماہ یا اس سے زائد عرصہ قیام کرنے والوں کا شمار ہوگا۔نئی مردم شماری میں تعلیم، علاج یا روزگار کیلئے بیرون ملک جانے والے پاکستانی شامل نہیں ہوں گے تاہم چینی شہریوں سمیت غیر ملکی شہریوں کا بھی شمار کیا جائے گا۔


