خزانہ آفس سوراب میں رشوت ستانی کا سلسلہ، انتظامیہ نے چشم پوشی اختیار کرلی
سوراب: خزانہ آفس سوراب میں رشوت ستانی کا سلسلہ تھم نہ سکا، چھوٹے ملازمین سے بھی جائز کام کے بدلے ایک بار پھر سرعام رشوت طلب کیا جارہا ہے، جی ٹی اے بی سوراب کا ڈپٹی کمشنر سے خزانہ آفس میں جاری رشوت خوری کا نوٹس اور ملوث ہٹ دھرم اہلکاروں کیخلاف کاروائی کا مطالبہ، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن ضلع سوراب کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خزانہ آفس سوراب کے کرپٹ اہلکار ایک بار پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے رشوت خوری کا بازار گرم کر کے ہیں، اساتذہ سمیت دیگر چھوٹے ملازمین سے ایک بار پھر جائز کاموں کے بدلے سرعام رشوت طلب کیا جاتا ہے نہ دینے کی صورت میں انہیں خوار کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے، اس سلسلے میں جی ٹی اے بی سوراب رشوت خوری میں ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرچکی ہے مگر متعلقہ محکمہ کے بالا حکام کی چشم پوشی اس خدشہ کو تقویت دے رہی ہے کہ حصہ وصول کرنے کے عوض سوراب میں خزانہ آفس کے اہلکاروں کو رشوت وصولی کی دانستہ چھوٹ دی گئی ہے، واضح رہے کہ جی ٹی اے بی سوراب کے پرزور احتجاج کے بعد خزانہ آفس سوراب میں رشوت خوری کا سلسلہ عارضی طور پر تھم گیا تھا مگر اب ایک بار پھر یہ سلسلہ سر اٹھانے لگا ہے، خزانہ آفس سوراب میں تعینات سب اکانٹ آفیسر اور اسسٹنٹ سرعام رشوت طلب کرتے ہیں نہ دینے کی صورت میں لاچار چھوٹے ملازمین کے جائز کام بھی نہ کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے، جو کہ سراسر ظلم اور زیادتی ہے جس پر جے ٹی اے بی سوراب آنکھیں بند نہیں کرسکتی، انہوں نے سیکریٹری خزانہ، کمشنر قلات ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر سوراب سے مطالبہ کیا ہے کہ خزانہ آفس سوراب میں بڑھتی ہوئی رشوت خوری کی تحقیقات کرکے ملوث بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کاروائی عمل میں لاکر اساتذہ سمیت عام چھوٹے ملازمین کو ان کی زیادتیوں سے نجات دلائی جائے۔


