کوئٹہ کے بیشتر واٹر فلٹریشن پلانٹ جواب دینے لگے، شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان حکومت کی جانب سے دو سال سے فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے کوئٹہ کے واٹر فلٹریشن پلانٹ جواب دینے لگے شہر میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے لگائے 80 فلٹریشن پلانٹس میں سے بیس پر تالہ پڑگیا شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ کوئٹہ میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے اسی سے زائد واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے تھے،۔لیکن پچھلے دو برسوں کے دوران خراب ہونے والے واٹر فلٹریشن پلانٹس صوبائی حکومت کی جانب سے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے مرمت نہیں ہو پارہے ہیں مرمت نہ ہونے کی وجہ سے اسی میں سے بیس واٹرفلٹریشن پلانٹس جواب دے گئے ہیں اس سلسلے میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کلین واٹر جمیل آغا کا کہنا ہے کہ ہمیں واٹرفلٹریشن پلانٹس کے آپریٹرز کی تنخواہوں کے علاوہ مرمت کے کاموں کیلئے کوئی رقم نہیں دی جارہی ہے فنڈز کے حصول کیلئے سمری وزیر اعلی بلوچستان کو بھجوائی جاچکی ہے شہر میں 20 فیصد فلٹڑیشن پلانٹس کی خرابی کے بعد شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔


