آواران، گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول قادر داد گوٹھ جھائو بلڈنگ سے محروم، بچے کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور
آواران (مانیٹرنگ ڈیسک) گوٹھ جھاﺅ میں گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول قادردادبلڈنگ سے محروم کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور ہیں۔ بلڈنگ کا نہ ہونا محکمہ تعلیم اور صوبائی حکومت کے دعوو¿ں پر بڑا سوالیہ نشان۔ بے بس معصوم بچے اور بچیاں کڑی دھوپ میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، آواران کی تحصیل جھائو کے علاقے قادر داد گوٹھ جھائو میں قائم گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول بنیادی سہولیات اور عمارت سے محروم ہونے کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ سکول کی اپنی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے معصوم بچے اور بچیاں شدید گرمی اور تپتی دھوپ میں کھلے آسمان تلے زمین پر بیٹھ کر علم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ سکول کے پاس نہ کوئی پکا کمرہ موجود ہے اور نہ ہی چاردیواری۔ تدریسی عمل کچی دیوار اور جھاڑیوں کے سایے میں جاری ہے۔ بچوں کے بیٹھنے کے لیے فرنیچر (بینچز) تک موجود نہیں، وائٹ بورڈ کو زمین یا کچی دیوار کا سہارا دے کر پڑھایا جا رہا ہے جبکہ پینے کے صاف پانی اور بیت الخلاء کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ شدید موسمی اثرات اور تپتی دھوپ کے باعث بچوں میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے، جس سے ان کی حاضری اور تعلیمی معیار شدید متاثر ہو رہا ہے۔اہل علاقہ اور والدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت بلوچستان تعلیمی ایمرجنسی اور "سب کے لیے تعلیم” کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے، تو دوسری جانب قادر داد گوٹھ کے نخلستان تعلیم کی یہ تصویر حال محکمہ تعلیم کی عدم توجہی اور غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بچوں میں تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ موجود ہے، لیکن مناسب ماحول اور چھت نہ ہونے سے ان کا مستقبل داو¿ پر لگ چکا ہے۔علاقہ مکیں اور تعلیمی حلقے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان، وزیرِ تعلیم اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) آواران سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیںکہ سکول کے لیے فوری طور پر نئی عمارت اور چاردیواری کا فنڈ جاری کیا جائے ، عمارت کی تعمری تک بچوں کو دھوپ سے بچانے کے لیے فوری طور پر متبادل شیڈ، خیمے اور چٹائیوں/فرنیچر کا انتظام کیا جائے۔ بنیادی سہولیات: پینے کے صاف پانی اور تدریسی مواد کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔


