تربت یونیورسٹی کی فیسوں میں اضافے کیخلاف بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس کا احتجاج، کمی کا مطالبہ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اورایچ ای سی کی جانب سے کم فنڈز کی فراہمی پر یونیورسٹی آف تربت نے اپنے فیسز میں سو فیصد اضافہ کردیا۔فیسوں میں اضافہ کرنے کیخلاف بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس تربت کی جانب سے جمعرات کو دوسرے روز یونیورسٹی آف تربت کے مین گیٹ کے سامنے کیمپ لگا کراحتجاج کیا جارہاہے،احتجاجی کیمپ میں طالبات بھی شامل تھیں۔آل پارٹیز کیچ کے ایکٹنگ کنونیئرمحمدجان دشتی کی قیادت میں ایک وفد نے تربت یونیورسٹی میں جاکرطلبہ کے احتجاجی کیمپ میں یکجہتی کااظہارکیا،اس موقع پرطلباءنے فیسوں میں اضافہ سے اپنے مشکلات اورتحفظات سے آگاہ کیا۔بعد ازاں آل پارٹیز کیچ کے وفد نے تربت یونیورسٹی کے پرووائس چانسلرڈاکٹر منصوراحمد بلوچ اوررجسٹرارگنگزاربلوچ سے ملاقات کی، انہوںنے آل پارٹیز کیچ کے وفد کو آگاہ کیاکہ فیسوںمیں اضافہ مجبوری میں کیا ہے۔ڈاکٹر منصوراحمد بلوچ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان بھر کے تمام یونیورسٹیز کی فیس اسٹرکچر سے یونیورسٹی آف تربت کی تمام فیس انتہائی کم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ اس سردی میں ہمارے بچے احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہیں لیکن ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ وی سی صاحب تربت پہنچیں گے تو وہ اس معاملے کو بہتر انداز میں دیکھ سکتے ہیں اور تمام تر اختیارات انہی کے پاس ہیں۔انہوں نے وفد کو یونیورسٹی کی تمام تر سہولیات اور اسکالرشپس اور دیگر معاملات سے متعلق بریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم جو بھی پالیسی ترتیب دیتے ہیں وہ ان بچوں کے حق میں مثبت ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم بچوں کو مزید سہولیات فراہم کریں لیکن ادارے کابااختیار کمیٹی تمام امور پر پالیسی مرتب کرتی ہے اور اس کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مجاز وائس چانسلر ہیں۔ احتجاجی کیمپ میں موجود بی ایس اے B.S.Aکے رہنماﺅں نویدتاج اورحمل بلوچ نے کہا کہ ہمارا ایجنڈہ صرف فیسوں میں سو فیصد اضافے کے فیصلے کو واپس لینا ہے کیونکہ یونیورسٹی میں داخل طلبا طالبات کا بیشتر غریب گھرانوں سے تعلق ہے جو کہ بیک جنبش اتنی رقوم ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا کہ ہم پر امن احتجاجی کیمپ میں اُس وقت تک بیٹھے رہینگے جب تک ہمارا جائز مطالبہ فیسوں میں کمی کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا جاتا،تاہم آل پارٹیز کیچ کے نمائندوں نے طلبا اتحاد کے رہنماوں سے اپیل کی کہ وہ دو تین دن تک اپنا احتجاج موخر کردیں تاکہ وائس چانسلر خود تربت پہنچ جائیں اور مسائل گفت وشنید سے حل ہوسکیں ۔لیکن طلبا اتحاد نے کہا کہ ہم اپنے جمہوری حق کیلئے احتجاجی کیمپ ختم نہیں کرسکتے۔سیاسی سماجی حلقوں نے مزکورہ صورتحال میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ تربت یونیورسٹی کا مستقبل ان حالات میں مخدوش صورتحال اختیار کرسکتی ہے۔اس لئے نیک نیت لوگوں کو درمیان کا راستہ اختیار کرکے مسئلہ کے حل کیلئے ٹھوس فیصلے لینے ہونگے تاکہ طلبا طالبات کا مستقبل تاریک نہ ہو۔کیونکہ یہ ادارہ ہم سب کا ہے اور ہمیں اس کے مستقبل کی فکر لاحق ہے۔


