سیلاب متاثرین کیلئے بیرون ممالک سے آنے والی امداد میں سے بلوچستان کو ایک روپیہ نہیں ملا, زمرک اچکزئی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کے وزیر خزانہ انجینیئر زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کی جانب سے گیس کی مد میں بلوچستان کے اربوں روپے کے بقایاجات ادا نہ کرنے کی صورت میں ہم گیس کی فراہمی بند کر سکتے ہیں۔کوئٹہ میں نیجی ٹیوی کو انٹرویو دیتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وفاق نے بلوچستان کو نظر انداز کر رکھا ہے، سیلاب متاثرین کے لیے بیرون ممالک اور اداروں سے آنے والی امداد میں سے بلوچستان کو ایک روپیہ نہیں ملا۔’این ایف سی ایوارڈ اور دوسری مدت میں مختص حصہ نہ دینے کی وجہ سے بلوچستان مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے، صوبے میں ترقیاتی کام رک گئے ہیں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دینا بھی مشکل ہوگیا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ وفاق گوادر، ریکوڈک اورسیندک سمیت سارے منصوبے بھی زبردستی لے جا رہا ہے اوراگر معاوضہ بھی نہیں دیتا تو یہ ناجائز ہوگا۔وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے گیس کے ذخائر نکالنے والی سرکاری کمپنی پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) پر بلوچستان حکومت کے 30 ارب روپے سے زائد کے واجبات ہیں لیکن کمپنی بلوچستان حکومت کے اصرار اور بار بار مطالبے کے باوجود بقایا جات ادا نہیں کر رہی۔’پی پی ایل کو ہم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم معاہدہ ک رلیں گے اس میں کوئی دوسری بات نہیں صرف کاغذی دستخط باقی ہے۔‘


