بلوچستان میں سرکاری ملازمین تنخواہیں نہ ملنے کیخلاف سڑکوں پر آگئے، واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ
کوئٹہ، جعفر آباد (انتخاب نیوز)بلوچستان میں سرکاری ملازمین سراپا احتجاج۔ کوئٹہ میں آل بلوچستان میونسپل ایمپلائز یونین کی جانب سے 4 ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور محکمے کو حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کے خلاف میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے گیٹ کے سامنے مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی مدمیں 29 کروڑ روپے ادا نہیں کئے جس کی وجہ سے پیٹرول پمپ مالکان نے گاڑیوں کا پیٹرول بند کردیا ہے اور گزشتہ 2 روز سے فیول نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیاں کھڑی اور 3 روز میں شہر بھر میں کچرے کے ڈھیر لگ چکے ہیں اس کے علاوہ ہمارے ملازمین کی گزشتہ 4 ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی جس کی وجہ سے ملازمین کے گھروں میں نوبت فاقہ کشی پر جا پہنچی ہے محکمے کو ٹھیکے پر دیا جارہا ہے جو ملازمین کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے مترادف ہے اور محکمے میں 12 سال سے ملازمین کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں 15 ہزار تنخواہ بھی ادا نہیں کی جارہی اور سالوں سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا جارہا ہے اگر محکمے کو پرائیویٹ کیا گیا اور تنخواہوں کی ادائیگی یقینی نہ بنائی گئی تو ہم ریڈ زون کے سامنے اپنے بچوں کے ساتھ خودکشی کریں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ ہم گزشتہ چار ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف سراپا احتجاج ہے اوراعلی حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔ جعفرآباد، ڈیرہ اللہ یار میں بلوچستان لیبر فیڈریشن کے ملازمین کا تنخواہوں میں تاخیر اور گریجوئٹی میں کٹوتی کے خلاف احتجاجی ریلی نکال کر پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا، بلوچستان لیبر فیڈریشن کے درجنوں ملازمین نے یونین کے ڈویژنل چیئرمین حاجی ممتاز سومرو کی قیادت میں محکمہ لوکل گورنمنٹ ڈیرہ اللہ یار کے آفس سے ریلی نکالی اور عدالت روڈ سے پیدل مارچ کرتے ہوئے پریس کلب کے سامنے پہنچ کر مظاہرہ کیا، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بی ایل ایف کے ڈویژنل چیئرمین حاجی ممتاز سومرو و دیگر نے کہا کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ کے فورتھ کلاس ملازمین کے ساتھ سراسر ناانصافیاں کی جا رہی ہیں، اس مہنگائی کے دوران ملازمین کی تنخواہیں بروقت ادا کرنے کی بجائے ہر ماہ 15 سے 20 روز کی تاخیر سے ادا کی جاتی ہیں تاہم گریجوئٹی کی ادائیگی نہیں کی جا رہی، ریٹائرڈ اور ملازمین اور وفات پانے والوں کے لواحقین گریجوئٹی کے حصول کے لیے سالہا سال دفتر کے چکر کاٹتے ہیں لیکن انکی شنوائی نہیں ہوتی، محکمہ کو لاکھوں روپے ماہانہ کنٹی جنسی اور گریجوئٹی کے مد میں رقم دی جاتی ہے بدقسمتی سے ہر ماہ بھاری رقم مبینہ طور پر خوردبرد ہو جاتی ہے اور ملازمین جنہوں ے اپنا خون پسینہ دیا ہوا وہ خالی ہاتھ ملتے رہتے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملازمین کو ماہانہ تنخواہ بروقت ادا کی جائے اور گریجوئٹی کے واجبات بھی فی الفور ادا کیے جائیں۔


