مسائل بندوق سے حل نہیں ہوسکتے، بلوچستان میں خواتین اور بچوں کے اغوا سے صورتحال گمبھیر ہوگئی، ثنا بلوچ

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسی خیل کی صدارت میں 2گھنٹے سے زائد کی تاخیر سے تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا شروع ہوااس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ثناءبلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں بلوچستان کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی نمائندے کو مذاکراتی عمل میں شامل نہیں کیا حالانکہ بلوچستان میں غربت سب سے زیادہ ہے اور تمام حکومتی امور قوائد و ضوابط کے مطابق سرانجام دئیے جاتے ہیں ہمارے وسائل پر وفاقی حکومت اکیلے ہی فیصلے کرتی ہے اسلئے تمام مذاکراتی عمل میں بلوچستان کا نمائندہ شامل کرنے کیلئے بلوچستان اسمبلی سے قرارد اد منظور کی جائے جسطرح عدالت عالیہ نے 2019میں میرے دائر کردہ کیس کے فیصلے میں سیندک پر بلوچستان حکومت کا اختیار ہے فیصلہ دیا تھا لیکن وفاقی حکومت نے ای سی سی کے اجلاس میں سیندک معائدہ میں 15سال کی توسیع کردی صوبائی حکومت کو اپنا اختیار استعمال کرنا چاہئے ہماری جماعت کا بھی ریکوڈ ک کے حوالے سے واضح موقف تھا کہ بلوچستان کو پچاس فیصد حصہ ملنا چاہئے تھا وفاق کی اسٹیٹ اینڈ انٹر پرائزز نے 9سو ملین ڈالر کے بدلے 25فیصد حصہ لیا اور ریکوڈ ک نے بلوچستان کے بجائے کمپنی اور وفاقی حکومت کی بات سنی جائیگی وزیراعظم نے سندھ کو تیل اور گیس کی دریافت کی اجازت دی ہے لیکن بلوچستان کو اجازت نہیں حتیٰ کہ یہاں پر بد امنی ، غربت، لاپتہ افراد کا مسئلہ ہے یہاں بھی ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے ۔ لسیبلہ میں ایک بار پھر بس کو حادثہ پیش آیا ہے صوبے میں کوئی ٹرانسپورٹ سیفٹی پالیسی نہیں ہے ،ڈرائیوروں کا ڈرگ ٹیسٹ ہونا چاہیے اگر حکومت کے پاس آلہ نہیں ہے تو میں اپنے ذاتی خرچ سے نشہ چیک کرنے والا آلہ فراہم کرنے کو تیار ہوں ۔ بسوں کے فیول ٹینک بھی محدود کئے جائیںکسی بھی بس میں تیل اور پیٹرول لیکر جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ بلوچستان اور خبیر پختونخوا تباہ حال ہیں انکے تنازعات کا حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے نکالا جائے بندوق سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں کئے جاسکتے حال ہی میں کراچی جیل سے رہا ہونے والے شخص کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش کی گئی تین دن سے رحیم زہری اور انکی اہلیہ لاپتہ ہیںایسے اقدامات سے صورتحال مزید گھمبیر ہوگی ۔ وہ گزشتہ دو ماہ سے ملک سے باہر تھے بد قسمتی سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم حکومت کا حصہ ہیں لیکن ہم حکومت کا حصہ نہیں ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں