پشتونخوا وطن کے عوام کو محکومی سے نجات دلانے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے، مختار یوسفزئی

سوات : پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پشتونخوامیپ کے رہنما اور کارکن اپنے غیور عوام کی حمایت اور مدد سے ہر قسم کے جبر ،ظلم اور استحصالی نظام کا خاتمہ کریگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات پارٹی کے ضلعی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ضلعی کانفرنس سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل خورشید کاکاجی، مرکزی ڈپٹی چیئرمین حامد خان، مرکزی سیکرٹری علی حیدر اعوان، مرکزی سیکرٹری شاہ روم خان، صوبائی سیکرٹری اشرف خان ہوتی، صوبائی سیکرٹری اطلاعات محبوب ایوب ایڈوکیٹ، صوبائی معاون سیکرٹری احمد شاہ، ناظم اور نو منتخب ضلع سیکرٹری نامدار خان ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا۔ ضلعی کانفرنس میں علی نامدار خان ایڈوکیٹ کو ضلعی سیکرٹری ،جاوید خان کو ضلعی سینئر معاون سیکرٹری سمیت 17 رکنی ایگزیکٹیو کا انتخاب کیا گیا۔ کانفرنس میں 1000 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ مختار خان یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی کی کامیابی نظریاتی سیاست اور ایک منظم تنظیم کے بدولت ہی ممکن ہے اور پشتونخوامیپ کے کارکنوں نے جس ہمت اور حوصلے کے ساتھ ہر قسم کی وابستگی سے بالا تر ہوکر نظریاتی رشتے کو اہمیت دی وہ قابل تحسین ہے اور پارٹی کا منعقد کردہ 27-28 دسمبر 2022 کامرکزی کانگریس اور اس میں پارٹی کارکنوں کی شرکت اس کا مظہرتھا۔ پارٹی کو نظریات اورتنظیم کے اصل روح کے مطابق چلانا اشد ضروری ہے اور ہم نے اپنی پارٹی کانگریس میں کارکنوں کے ساتھ پارٹی کو نظریات اور تنظیمی ڈسپلن کی بنیاد پر نئے سرے سے منظم کرنے کا جو وژن دیا تھا اسکو عملی جامہ پہنانے کیلئے نہ صرف ہم تیار ہے بلکہ اسکا عملی مظاہرہ بھی پارٹی کے ساتھیوں کووقتاً فوقتا پارٹی فیصلوں میں نظر آئیگا۔ پارٹی کو اجتماعی شعور اور اجتماعی قیادت کے اصول تحت چلایا جائیگا اور پارٹی کارکنوں اور اداروں کی اہمیت کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ملک اور پشتونخوا وطن میں تمام عوامی مسائل اور خصوصا ریاستی تخریب کاری ، فوجی چھاونیوں کے قیام، سیکورٹی اداروں کی عوامی زمینوں پر قبضہ، چیک پوسٹوں کے قیام اور اس پر عوام کی تلاشی کے نام پر تذلیل اور لاقانونیت کے خلاف ہر قسم کے خطرات کے باوجود بھر پور آواز بلند کی ہے اور اس جدوجہد کی پاداش میں مشکلات اور تکالیف بھی برداشت کئے ہیں۔ ہم اپنے عوام کی خدمت کو قومی فریضہ سمجھتے ہیں اور ہم حال اور مستقبل میں بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر پشتونخوا وطن کے عوام کو قومی محکومی سے نجات دلانے کی بھر پور جدوجہد اور ہر قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرینگے۔ سوات میں سول اتھارٹی کی بحالی،تعلیم اور صحت اور دیگر سرکاری عمارتوں کو سیکورٹی اداروں کے قبضے سے واگزاری، موٹروے کو عوامی خواہشات کے مطابق دریا سوات کے کنارے تعمیر ، سوات میں امن وامان کے قیام اور دیگر عوامی مسائل کیلئے مسلسل جدوجہد کا فریضہ ادا کریگی۔ انہوں نے مریم نواز کی طرف سے ہزارہ صوبے کے متعلق بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ مریم نواز کو حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے جنوبی پشتونخوا اور خیبر پشتونخوا پر مشتمل صوبہ اور سرائیکستان صوبے کے قیام کی بات کرنا چاہیے تھی جو کہ ان اقوام کا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ انہوں نے پشتونخوا وطن کے عوام سے کہا کہ وہ اس بیان کی پاداش میں مریم نواز اور انکے ہم فکر وں کا احتساب کرے اور قومی مفادات کے برخلاف اس بیان پر انکا بائیکاٹ کریں۔ پشتونستان کے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ نام پشتون وطن کے عوام کا حق ہے اور اس پر معذرت خواہانہ رویہ سمجھ سے بالاتر ہے ہم نے اپنے ہر حق کے حصول کیلئے کسی بھی مصلحت پسندانہ رویے کو پس پشت ڈالنا ہوگا اور ہر فورم پر اپنے انسانی، سیاسی، قانونی ، ثقافتی اور دیگر حقوق کیلئے جرات کے ساتھ بیان کرنا ہوگا۔ انہوں نے افغانستان کے متعلق عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان کے استقلال کو تسلیم کیا جائے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔ اور افغان حکام پر زور دیا کہ تمام مسائل کا حل اسی میں ہے کہ فوری طور پر بنیادی انسانی حقوق کا احترام اور ضمانت فراہم کی جائے اور ساتھ ہی ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کرے۔ افغان عوام کا نمائندہ لویہ جرگہ بلاکر اسکے ذریعے آئین کی تشکیل کرکےانتخابات کا اعلان کیا جائے اور افغان عوام کو جمہوری طریقے سے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں