بلوچ سیاست کا ادب سے چولی دامن کا ساتھ ہے ، مالک بلوچ

تربت (نمائندہ انتخاب ) عطاشاد ادبی میلہ کے تیسرے روز زبان اور سیاست کے موضوع پر منعقدہ پینل ڈسکشن میں اظہارخیال کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاکہ بلوچ سیاست ہردور میں ادب کے ساتھ ہم آہنگ رہاہے ، بلوچ قومی سیاست کا آغاز 1920ءسے ہوا ، آغاز سے ہی بلوچ سیاست کا ادب کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رہاہے جو اکابرین بلوچ سیاست کی قیادت کرتے رہے ہیں وہ بیک وقت لیڈرکے ساتھ ساتھ شاعر وادیب بھی تھے ، میر یوسف عزیز مگسی ،محمد حسین عنقاءسے لیکر گل خان نصیر تک سیاست وادب ساتھ ساتھ چلتے رہے ، گل خان نصیر عام طورپر شاعر کی حیثیت سے معروف ہیں مگر وہ بلوچ سیاست میں امام کی حیثیت رکھتے ہیں ، بعد کے ادوارمیں لٹھ خانہ کوسیاست اور ادب کے درسگاہ کی حیثیت حاصل رہی ، بلوچ دانشور امان اللہ گچکی ، باقی بلوچ، صورت خان مری ، صدیق آزاد ، نعمت اللہ گچکی ، غفار ندیم سب سیاسی دانشور رہے ہیں ، انہوں نے کہاکہ اٹھارہویں ترمیم میں تعلیمی نصاب کو وفاق سے صوبوں کے حوالے کردیاگیا مگر بعد میں ایک قرار دادکے ذریعے سنگل کریکولم کے نفاذ کی منظوری دی گئی ، اکیسویں صدی قوموں کے آگے جانے کی صدی ہے آج کے دور میں بلوچی ادب پروان چڑھ رہاہے تاہم آئندہ چند سال اس حوالے سے چیلنجز درپیش رہیں گے ، ڈاکٹراللہ بشک بزدارنے کہاکہ کسی زبان کو فروغ دینے اور اسے طاقت ور بنانے میں سیاسی طاقت اہم رول اداکرتا ہے ، اکیسویں صدی میں بھی ہم بلوچی رسم الخط پر متفق نہیں ہیں ، زبان وسیاست دو الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ کسی قوم کی سب کچھ اس کی زبان ہے اور سیاست امکانات کانام ہے ان دونوں کو جدانہیں کیاجاسکتا ، انہوں نے کہاکہ جب کسی قوم کی سیاسی قوت ختم ہوجائے تو اس کی زبان بھی ختم ہوجائے گی ، ڈاکٹرواحد بخش بزدار نے کہاکہ بلوچی لینگویج اتھارٹی کا قیام اشد ضروری ہے اس سلسلے میں اتفاق رائے پیداکرنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہاکہ زبان صرف الفاظ نہیں بلکہ آپ کی ساری تاریخ ، ثقافت، نفسیات سب اسی زبان سے منسلک ہیں ، زبان بائنڈنگ فورس ہے انہوں نے کہاکہ دانشور عوام کے نمائندے اور آواز ہوتے ہیں تاہم ہمارے دانشور بیمارہیں ، پینل ڈسکشن میں موڈیریٹرکے فرائض پروفیسر غفور شادنے سرانجام دئیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں