بلوچ اقوام مردم شماری میں حصہ لیں، قومیت کے خانے میں ”بلوچ،، ضرور لکھیں، بی این پی عوامی

بی این پی (عوامی) کے سینٹرل کمیٹی کا اجلاس مورخہ 15فروری کو کراچی میں زیر صدارت میر اسد اللہ بلوچ منعقد ہوا اجلاس میں درج ذیل قرارداد متفقہ رائے سے منظور ہوئے۔ بلوچستان کے وسیع ساحل کی حفاظت سمندری حیات کی آبیاری کیلئے اقدامات اٹھائے جائے غیر قانونی فشنگ کا خاتمہ کیا جائے اور ٹرالر مافیاں کیخلاف سخت اقدامات کیئے جائیں۔ ماہی گیر خاندانوں کو روزگار تعلیم اور دیگر سماجی سہولیات ترجیح کے ساتھ مہیا کی جائیں۔ بین الاقوامی ڈونر کانفرنس کے روئیداد کے مطابق ملک کے مالی مسائل کو حل کیا جائے۔ بلوچستان حکومت مالی بحران کا شکار ہے ترقیاتی فند ز میں کمی واقع ہوئی یہ اجلاس مطالبہ کرتی ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت بلوچستان کو اس کے حصہ کا فنڈز مہیاءکرے۔ بلوچستان میں سیلاب کی وجہ سے معیشت زراعت اور سماجی زندگی بیشتر علاقوں میں مفلوج ہوکر رہ گئی ہے آج کا اجلاس مطالبہ کرتی ہے کہ سیلاب متاثرین کی مالی مدد کی جائے۔ بلوچستان میں زراعت کی ترقی کا دارومدار نئے ڈیمز بنانے میں ہیں آج کا اجلاس مطالبہ کرتی ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں ڈیمز تعمیر کرے اور زمینداروں کو زیادہ سے زیادہ وسائل دے تاکہ زرعی ترقی ممکن ہو سکے۔ بلوچستان کیلئے وفاقی ملازمتوں کا چھ (6)فیصد کوٹہ ہے جس پر صحیح عمل نہیں ہورہا آج کا اجلاس مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو وفاقی ملازمتیں ان کے کوٹہ کے مطابق دی جائیں۔ آج کا اجلاس یہ سمجھتی ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اسے سیاسی انداز میں دیکھا جائے طاقت کے استعمال سے یہ مزید گھمبیر ہوگا۔ آج کا اجلاس مطالبہ کرتی ہے کہ کوئٹہ کراچی روڈ اور کوسٹل ہائی وے کو ڈبل ٹریک کیا جائے کیونکہ یہ روڈ حادثات کا سبب بن رہا ہے۔ گوادر روڈ کو آپریشنل کرکے اس کی آمدنی کا 50فیصد صوبائی حکومت کو دی جائے۔ آج کا اجلاس مطالبہ کرتی ہے کہ مردم شماری میں بلوچسان کے باسیوں کو موقع فراہم اور بیرون ملک بیٹھے لوگوں کا اندراج کیا جائے مائیگریشن کرنے والے اور دیگر افراد کو شمار کیا جائے اور افغان مہاجرین کو مائنس کی جائے۔ آج کا اجلاس بلوچ عوام سے اپیل کرتی ہے کہ مردم شماری میں حصہ لیں اور فارم میں قومیت کے خانہ میں ”بلوچ،، ضرور لکھیں۔ سرحدی کاروبار،بارڈر میں لوگوں کو کاروبار کرنے دیا جائے اور مزید گیٹ بنائے جائیں۔ چیدگی اور آواران روڈ کی منظوری ہوئی ہے اجلاس مطالبہ کرتی ہے کہ روڈ کی تعمیر جلد از جلد شروع کی جائے۔ مکران میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور ایسے نیشنل گریڈ سے منسلک کی جائے۔ پنجگور 5لاکھ کی آبادی ہے،مرکزی حکومت نے ایئر پورٹ بند کردیا ہے، آج کا اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اسے فوری بحال کیا جائے۔ بولان روڈ سیلاب کی وجہ سے مسمار ہوگئی ہے اس کی تعمیر و مرمت کیا جائے۔ بلوچستان میں منشیات کی پھلاو¿ کی وجہ سے نوجوان نسل تباہی کی طرف گامزن جبکہ اینٹی نارکوٹیکس کی کارکردگی مایوس کن ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ منشیات کہ منشیات کے پھلاو¿ کیخلاف سخت اقدامات اٹھائی جائیں۔ آج کا اجلاس یہ مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان کے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اغواءبرائے تاوان کا سلسلہ بند کیا جائے،غیر قانونی و غیر آئینی گرفتاریوں کامکمل خاتمہ کیا جائے۔ بارڈر ٹریڈ کو بضابطہ شروع کیا جائے اور امیگریشن سینٹرز قائم کیئے جائیں۔ پسنی جیٹی کی ڈریجنگ کا عمل گزشتہ کئی سال سے رکھی ہوئی ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے فوری طور پر بحال کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں