مسلط شدہ وزیراعلیٰ کی خوشنودی کیلئے بسیمہ کی نئے ضلع میں شمولیت قبول نہیں، رہنما نیشنل پارٹی

کوئٹہ (آن لائن) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میر عبدالخالق بلوچ نے جاری بیان میں کہا ہے کہ بسیمہ کو مسلط شدہ وزیراعلیٰ سمیت کسی کی خوشنودی کےلیے کسی نئے ضلع میں شامل کرنے کو قبول نہیں کرینگے۔وزیراعلی خود کے انتخابی حلقے اور ایک شخصیت کی خاطر بسیمہ واشک اور ناگ کو ضلع بنانا چاہتا ہے جس کو بسیمہ کے عوام کسی طور پر بھی تسلیم نہیں کرینگے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بالخصوص وزیر اعلی بلوچستان ضلعوں کی غیر فطری حد بندی سے گریز کریں کسی کی ذاتی مفاد کےلیے عوام کے لیے مسائل نہ بنایا جائے۔رخشان ریجن 4 اضلاع پر مشتمل ہے۔ان اضلاع کے کسی بھی سب ڈویژن کا تحصیل کو کسی اور ڈویژن و ضلع کی حدود میں شامل کرنا نہ صرف غیر فطری ہوگا بلکہ غیر آئینی و قانونی اور عوامی اقدار کے خلاف ہوگا۔بسیمہ سب ڈویژن و منسلک علاقے ضلع واشک اور رخشان ڈویژن کے حصہ ہیں بسیمہ کو کسی نئے ضلع کی حد بندی میں شامل کرنے کی سخت مخالفت کریں گے بلکہ صوبائی حکومت کو یہ باور کراتے ہیں کہ بسیمہ کے عوام ان کے اس غیر آئینی و غیر فطری حد بندی پر سیسہ پلائی دیوار بنے گی۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی بسیمہ کے تمام سیاسی جماعتوں قبائیلی و سماجی شخصیات کو ساتھ ملکر لائحہ عمل طے کریگی اور اس عوام دشمن حدبندی کو رد کریگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں