ڈی سی کیچ یومیہ لاکھوں روپے بھتہ نہ لیں تو ایرانی پیٹرول سستا فروخت ہوگا، گاڑی مالکان کا احتجاج

خضدار (نامہ نگار) ڈی سی کیچ کی جانب سے تربت سے باہر تیل کی ترسیل پر پابندی اور تیل بردار گاڑیوں سے مبینہ طور پر بھتہ وصولی کیخلاف زامباد گاڑی مالکان کا خضدار پریس کلب کے سامنے احتجاج، ڈی سی کیچ کیخلاف شدید نعرے۔ خضدار پریس کلب کے سامنے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ٹکری محمد بخش مینگل، ولی محمد زہری، علی اکبر، نذیر احمد مینگل و دیگر کا کہنا تھا کہ بارڈر سے ٹوکن کے نام پر ڈی سی کیچ روزانہ ہر گاڑی سے دو لاکھ پچاس ہزار روپے لیتا ہے جس کی وجہ سے ایرانی تیل مہنگا ہوگیا ہے لیکن ڈی سی کیچ اپنی کرپشن کو چھپانے کےلیے کہہ رہے ہیں کہ تیل مہنگا اس لیے ہے کہ تربت سے تیل باہر ترسیل ہوتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ڈی سی کیچ بارڈر سے تین ہزار لیٹر لیکر آنے والی ہر گاڑی سے دولاکھ پچاس ہزار روپے لیتا ہے جس کی وجہ سے تیس روپے فی لیٹر آنے والا تیل عوام کو دو سو پچاس روپے میں ملتا ہے اگر ڈی سی کیچ بارڈر سے آنے والی گاڑیوں سے بھتہ نہ لیں تو تربت میں پچاس روپے تک پیٹرول ہم دیں گے لیکن ڈی سی کیچ یہ کبھی نہیں کریں گے کیونکہ روزانہ چھ سو گاڑیوں سے کروڑوں روپے کمائے جاتے ہیں۔ جبکہ ہم اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کےلیے روزگار کررہے ہیں، ہمیں پانچ ہزار سے دس ہزار روپے تک منافع ملتا ہے مگر ڈی سی کیچ کو یہ بھی برداشت نہیں۔ خود پانچ کروڑ سے زیادہ کما لیتا ہے مگر ہمارے پانچ ہزار کمانا اس کو ہضم نہیں ہورہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی کیچ کے ایما گزشتہ چار دن سے ہماری گاڑیوں کو روک دیا گیا ہے، ڈرائیورز پر تشدد کرکے انہیں بھوکا پیاسا رکھا گیا ہے۔ لہٰذا کرپٹ ڈی سی کیچ کے اس ظلم کیخلاف وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان نوٹس لیں بصورت دیگر ہم روڈ بند کرنے اور دیگر لائحہ عمل پر مجبور ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں