بلوچستان میں قانون وانصاف نہیں، یہ حکمرانوں اور لٹیروں کیلئے سونے کی چڑیا ہے، مشتاق خان

کوئٹہ: جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما سینیٹرمشتاق احمدخان نے کہاکہ قانون وانصاف اور عدل کا انظام نہ ہونے کی وجہ سے طاقتورکیلئے آسانی جبکہ کمزور اور غریبوں کیلئے پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں پوری قوم کوبلارنگ رنسل اورزبان متحد ہوکر نیک صالح دین دارایماندارلوگوں کا ساتھ دینا ہوگا بدعنوانی اقرباءپروری نے عوام کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔حکمران ، ادارے اورمنتخب نمائندے عوام کے بجائے ذاتی خدمت کر رہے ہیں بلوچستان کے عوام کیلئے قانون وانصاف نہیں یہ حکمرانوں اور لٹیروں کیلئے سونے کی چڑیا ہے بلوچستان کی حکومتوں نے بھی عوام کا ساتھ نہیں دیا جس کی وجہ سے ہر طرف غربت بے روزگاری پریشانی اور مشکلات ہیں بلوچستان کے عوام مسائل کے حل انصاف کے حصول اورترقی وخوشحالی کیلئے اس بار جماعت اسلامی کا ساتھ دیں تاکہ لٹیرے عوام دشمن ناکام ہوجائے اورعوام کامیاب ہو۔ان خیالات کاا ظہارانہوں نے جماعت اسلامی ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام صوبائی سیکرٹریٹ الفلاح ہاﺅس میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی،ڈاکٹرعطاءالرحمان ،کوئٹہ کے امیر حافظ نورعلی ،عبدالمجید سربازی نے بھی خطاب کیا ۔سنیٹرمشتاق احمدخان نے کہاکہ سینٹ میں بلوچستان کے مظلوم عوام کا آوازمیں ہوں بلوچستان کے سلگتے اجتماعی مسائل کو اجاگراوران کے حل کیلئے ہر فورم پر بھر پور آوازاُٹھاﺅنگا بلوچستان میں بھی سردارونواب اورمنتخب نمائندے اپنی عوام کا ساتھ نہیں دیتے ظلم وجبر،درندگی اوراستحصال کا نظام قائم اورجس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے ۔ عوام ظلم وجبر کے خلاف ملکر متحدہ آوازبلند کریں جماعت اسلامی ان کیساتھ ہے گوادرکے مظلوموں نے آوازبلند کی جماعت اسلامی ان کی ہرسطح پر ساتھ دے رہی ہے ظلم وجبر کا تاریک رات ضرورختم ہوکر روشن صبح طلوع ہوگااگر ظالموں کو نشان عبرت بنا دیا گیا تو آئندہ کوئی ظلم نہیں کرے گا ۔ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔بلوچستان کی پارٹیوں سمیت پی ڈی ایم ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی بے رحم وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کی پارٹیاں ہیں ، یہ لوگ 23 کروڑ عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں ،انہی پارٹیوں میں شامل لوگوں کی نجی جیلیں ہیں ،جنہیں باربار ٹکٹس ملتے ہیں ۔ ملک میں غریب اور امیر ایک جیسا ٹیکس دیتے ہیں، اسی سے معیشت برباد ہوئی ۔ بارکھان میں ظلم وجبر اوردرندگی کے واقعے کو سب سے پہلے پارلیمان میں جماعت اسلامی نے ا ٹھایا جماعت اسلامی عوام کا مقدمہ لڑ رہی ہے،مہنگائی کے طوفان کے خلاف لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا، خیبر پختوانخوا میں بدامنی کے خلاف پشاور امن مارچ کیا، سندھ میں سیلاب آیا تو جماعت اسلامی سب سے آگے تھی ، کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے لیے طویل جدوجہد کی۔ ہم امت کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں ، ترکی اور شام میں زلزلہ آیا تو جماعت اسلامی نے رضاکار بھیجے۔ جماعت اسلامی ملک میں اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کررہی ہے، قوم فیصلہ کرے ، ملک کی تقدیر اس کے اپنے ہاتھ میں ہے ، کرپٹ ٹرائیکا آئندہ سو برس بھی اقتدار میں رہا تو حالات نہیں بدلیں گے،یہ لوگ انگریز اور استعمار کی چاپلوسی کرتے ہیں، گزارشات کی جاتی ہیں کہ ہمیں موقع دیجئے، ہم آپ کے بہتر خادم بنیں گے۔ آئندہ نسلوں کو غلامی سے بچانا ہے تو عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں