نصیر آباد، یونیسیف کے تعاون سے اسکولوں کی مرمت کے نام بڑے پیمانے پر کرپشن

چھتر : ضلع نصیر آباد میں یونیسیف پروگرام منیجر نے لاکھوں روپے کا کرپشن کام کاغذی کاروائی مکمل۔ ضلع نصیر آباد میں یونسیف کے تعاون سے ESP پروگرام کے منیجر اسکولوں کو مرمت کے نام پر چونا لگا رہے ہیں، جس سے یونسیف کا پیسہ نہ صرف ضائع ہورہا ہے بلکہ وہ بڑے پیمانے پر کرپشن کی نظر ہورہا ہے۔ عمارتوں کو عارضی نا قص رنگ روغن کرکے فوٹو سیشن تک کام محدود ہے، جہاں ESP کی نا قص تعمیراتی ہونے کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہوگئے ہیں یونیسیف بچوں کے نام پر دنیا سے پیسہ اکٹھا کرنے والی تنظیم کے اپنے ہی آفیشل اس لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے، جس کی واضح مثال یہ ہے کہ یہ پیسہ جس اسکول کی مرمت کے لئے آتا ہے پہلے اس اسکول کی فعال PTSMC بنتی ہے جنکو بجٹ و دیگر اسکول معاملات کے حوالے سے ٹرینڈ یونسیف کے نمائندے کرتے ہیں مگر یونسیف کے نمائندے PTSMC ممبران کو برائے نام ٹریننگ دے کر سادہ لوح والدین کو PTSMC کا حصہ بناتے ہیں تاکہ SDP کے دوران ان سے پوچھ گچھ نا ہو پھر جب یونسیف ESP کسی اسکول کا بجٹ منظور کرتی ہے تو بجٹ اس اسکول کے اولمدرس کے اکاﺅنٹ میں جاتا ہے مگر منیجر ESP وہ پیسے ٹرانسفر کرکے اس ٹیچر سے بلینک چیک لے کر خود پیسے نکال کر خود ٹھیکیدار بن کر کام شروع کردیتا ہے, PTSMC اور اولمدرس سے صرف سائن لیتا ہے جبکہ یہ کام PTSMC کی نگرانی اور اسکول انچارج نے کرانا ہوتا ہے جو کہ ضلع نصیر آباد میں الٹ ہو رہا ہے, یونسیف ESP کے انڈر میں اس وقت محکمہ تعلیم کی بہتری کیلئے چار چار لگژری گاڑیاں ہائیر کی گئی ہیں وہ کیا کام کرتی ہیں کس مقصد کے لئے استعمال ہوتی ہیں اس کا برائے نام حساب کتاب رکھا گیا ہے کیونکہ یہ گاڑیاں منیجر ESP ضلع نصیر آباد نے اپنے دوستوں رشتہ داروں سے لی ہیں مطلب یہاں بھی دوست احباب کو نوازنے کیلئے اقربا پروری کی گئی ہے, MHM, PTSMC, CHILD CLUB و دیگر معاملات لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہیں مگر آﺅٹ پٹ زیرو ہے، اسکے علاوہ سابقہ انرولمنٹ کی مد میں جو پیسے آئے اس سے کون سی ایکٹیویٹی ضلع میں نصیرآباد میں ESP منیجر نے کی اس کی تفصیلات بتائیں اسکے علاوہ حالیہ سیلاب اور ڈی واٹرنگ کے نام پر جو پیسہ خرچ ہوا اور کہاں کہاں کتنا ہوا اسکا حساب کتاب صرف واچرز پہ آپکو دستیاب ہوگا اسکے علاوہ ALP کے نام پر اسکی سٹیشنری و دیگر معاملات پر بھی کرپشن کا بازار ESP ضلع نصیر آباد نے گرم کر رکھا ہے اور پڑھائی میں بچوں کی آٹ پٹ یہ ہے کہ بچے بنا نقل کے پاس ہوتے لیکن معاملات برعکس ہے زمین حقائق کو دیکھا جائے تعلیمی پیراگراف بھی نہیں ہے عوامی سماجی حلقوں نے عالمی تنظیم یونیسیف کے اعلی ذمہ داروں سے مطالبہ کیا کہ نصیر آباد میں یونیسیف پروگرام منیجر کے کرپشن پہ انکوائری ٹیم تشکیل دیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں