گوادر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے، عوام کے مطالبات تسلیم کیے جائیں، ہدایت الرحمن کا چیف جسٹس کو خط
گوادر (انتخاب نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کے نام مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کا کھلا خط۔ خط میں لکھا گیا کہ امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ یہ مراسلہ میں جوڈیشل لاک اپ گوادر سے تحریر کررہا ہوں۔ 26 دسمبر 2022ءکو گوادر میں جاری ایک پرامن احتجاج کو ریاستی طاقت کے ذریعے ختم کیا گیا۔ یہ احتجاج گزشتہ دو مہینے سے جاری تھا۔ ہمارے مطالبات وہی تھے جو ہمیں آئین پاکستان دیتا ہے۔ ساحل بلوچستان کو ٹرالر مافیا سے پاک کیا جائے، بارڈر پر کاروبار کی اجازت دی جائے۔ منشیات کے اڈوں کا خاتمہ کیا جائے۔ لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ جو چیک پوسٹ اسکولوں، ہسپتالوں ، گراو¿نڈ اور گھروں کے اوپر ہیں ان اٹھایا جائے۔ یہ جائز آئینی مطالبات حکومت کی جانب سے پہلے ہی تسلیم کئے جا چکے تھے اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے تحریری معاہدہ بھی کیا تھا کہ ان پر ایک مہینے میں عملدرآمد کریں گے لیکن سال گزرنے کے بعد بھی ان پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ ایک سال بعد جب دوبارہ انہی مطالبات پر دوبارہ احتجاج کیا گیا تو بجائے معاہدے کی پاسداری کے رات کی تاریکی میں ہم پر حملہ کرکے ماو¿ں، بہنوں، بزرگوں پر بدترین تشدد کیا گیا۔ گاڑیاں جلائی گئیں اور سینکڑوں موٹر سائیکل ضبط کرلیے گئے۔ گھروں پر چھاپے مار کر اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنا کر عورتوں کے زیورات اور دیگر گھریلو قیمتی سامان کو لوٹا گیا۔ عوام کی بڑی تعداد کو پکڑ پکڑ کر قید کیا گیا اور ایک ایک فرد پر دس سے پندرہ ایف آئی آر درج کی گئیں۔ شدید سردی میں کئی کارکنان کو کرائم برانچ کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ اس کے علاوہ ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے گوادر میں دفعہ 144 لگائی گئی۔ عوام کی پرامن اور جمہوری آواز کو دبانے کے لئے طاقت کا استعمال کرکے جعلی مقدمات کے ذریعے قائدین کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔ بلوچستان حکومت، انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے انتقامی کارروائیاں تا حال جاری ہیں۔ منتخب کونسلران کو قید کیا جارہا ہے اور گھروں میں بیٹھے معذور افراد کو بھی مقدمات میں نامزد کیا جا رہا ہے۔ آج ضلع گوادر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی جاری ہے۔ لوگ آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ سیاسی آزادیاں سلب کی گئی ہیں۔ آج بھی گھروں سے اٹھائے گئے قیمتی سامان، زیورات، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور موبائل فونز پولیس اور ایف سی کے پاس ہیں جو واپس نہیں کی جارہے۔ آپ جناب سے استدعا کرتا ہوں ان غیر انسانی و غیر آئینی اقدامات کے خلاف قانونی ایکشن لیں۔ پرامن اور معصوم لوگوں کو حکومت، انتظامیہ اور پولیس کے ظلم و جبر سے بچانے کے لیے نوٹس لیں۔ لوگوں کیخلاف دائر جعلی مقدمات کے ذریعے قید و بند اور تشدد کیخلاف پوچھ گچھ کریں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ بحیثیت منصف اعلیٰ ضلع گوادر کے مظلوم جمہوری عوام کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور انہیں ظلم سے نجات دلائیں گے۔


