قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، ڈالرز اور انسانی اسمگلنگ پر وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب

کوئٹہ، اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت بدھ کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں بولان میں کانسٹیبلری پر حالیہ تخریبی حملے کی مذمت اور جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کیلئے بلند درجات کی دعا کی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے اجلاس کے آغاز میں امریکی ڈالرز اور انسانوں کی اسمگلنگ کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک سے امریکی ڈالرز اسمگل ہو رہے ہیں اس حوالے سے وزارت داخلہ کا کیا کردار ہے جبکہ ترکی، اٹلی میں حالیہ مسافرکشتی کو پیش آنے والے حادثے کو مد نظر رکھتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت داخلہ اگلی میٹنگ میں بتائے کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث کتنے گینگز کے خلاف کاروائی کی گئی؟، انسانی سمگلرز کیخلاف کیا ایکشن لیا گیا؟ وزارت داخلہ اب تک انسانی سمگلنگ کو کیوں نہیں روک سکی؟۔ کمیٹی اجلاس میں شاہد الیاس، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ایف آئی اے کی جانب سے اس وقت معطلی کے تحت اپنی بحالی کے لیے جمع کرائی گئی عوامی عرضداشت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ 5 سال سے ایک بندے کے خلاف انکوائری چل رہی ہے جس کا فیصلہ نہیں آرہا نہ ہی متاثرہ شخص کورٹ جاسکتا ہے کیونکہ اس کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ یہ ایک شخص کے ساتھ زیادتی ہے کہ وہ 5 سال سے انکوائری بھگت رہا ہے۔ حکام وزارت داخلہ نے بتایا کہ ایک انکوائری میں اس پر چارجز ثابت نہیں ہوئے۔ پرفارمنس ایویلویشن رپورٹمیں مبینہ طور پر سازباز کرنے کی بنا پر دوسری انکوائری 2020 میں شروع ہوئی۔ 17 فروری2023 کو اسی بنا پر شاہد الیاس کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا جس کا جواب ابھی نہیں دیا گیاہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 26 جنوری 2023 میں اس کیس کے حوالے سے ہم نے آپ سے رپورٹ مانگی اس کے باوجود اس کو شوکاز جاری کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص کے خلاف انکوائری بد نیتی پر مبنی معلوم ہوتی ہے اس لئے کمیٹی نے ایف آئی اے کے متاثرہ شخص کیخلاف انکوائری ختم کر کے بحال کرنے کی ہدایت جاری کردیں۔ اجلاس میں سی ڈی اے حکام کی جانب سے کمیٹی کو اسلام آباد کے ایف سیکٹرز میں گرین بیلٹ پر تجاوزات کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایت کے باوجود گرین بیلٹ سے فنسنگ اور تجاوزات نہیں ہٹائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشاہدے سے پتہ چلا ہے کہ ایف سیکٹرز میں لوگوں نے گھروں کے سامنے گرین بیلٹ اور فٹ پاتھ کو خارداریں تاریں لگا کر، سیکیورٹی گارڈز اور فنسنگ کرکے بند کر رکھا ہے ایسا بالکل نہیں ہونا چاہئے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ دو ماہ میں یومیہ تین گھر کے حساب سے گرین بیلٹ سے تجاوزات اور رکاوٹیں ہٹا کر مفصل رپورٹ کمیٹی میں پیش کریں۔ سینیٹر عبدالقادر نے کمیٹی کو بتایا کہ نیو بلیو ایریا میں ماسٹر پلان پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔ پلاٹ کی بولیاں لگ رہی ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پلاٹ کے ساتھ خالی جگہوں کو پارلنگ کیلئے مختص کیا جائے۔ اسلام آباد میںاحساس ریڑھی بان پروگرام کی بندش کے حوالے سے سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے پر اگلی میٹنگ میں وزارت برائے تخفیف غربت کے حکام کو بھی طلب کیا جائے اور ان کی موجودگی میں اس مسئلے پر گفتگو ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے گزشتہ حکومت میں سی ڈی اے اور وزارت برائے تخفیف غربت کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہوئے تھے جس کے بعد ایک سال کیلئے ریڑھی لگانے کی اجازت دی گئی تھی۔ کمیٹی اجلاس میں وزارت داخلہ کی طرف سے مالی سال 2023-24 کیلئے تجویز کردہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) پر غور و خوض کیا گیا۔ کمیٹی نے منصوبوں کے حوالے سے وزارت داخلہ کو سفارشات پیش کیں۔ وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ کل 96 منصوبے ہیں جن کی کل لاگت کا تخمینہ 214 بلین روپے ہے-68 نئے جبکہ 28 منصوبے پرانے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ جن پرانے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے ان پر توجہ دیں جبکہ وہ منصوبے جس کیلئے مختص کردہ رقم 30 فیصد سے کم ہے اس کو اگلے سال کیلئے رکھیں -چیئرمین کمیٹی نے وزارت داخلہ اور ماتحت اداروں کے اہم اور وہ منصوبے جن پر 50 فیصد سے زیادہ کام ہوگیا ہے جلد سے جلد مکمل کرنے کی سفارش کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں