وندر ڈیم اراضی گوٹھ خمیسہ کے بعض افراد اسلم بھوتانی کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں، متاثرین کی پریس کانفرنس

وندر :وندر ڈیم سے متصل گوٹھ حاجی خمیسہ جاموٹ و دیگر سے تعلق رکھنے والے افراد نے نور محمد جاموٹ عبدالطیف جاموٹ عبدالغنی جاموٹ کی سربراہی میں گزشتہ روز وندر پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ہمارے گوٹھ سے تعلق رکھنے والے چند سادہ لوح لوگوں کو ایک سیاسی گروہ نے اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھہ کو برقرار رکھنے کے لیے اور اپنے مزموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے لسبیلہ کم گوادر سے منتخب عوامی نمائندے رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی کو ہدف تنقید بنایا انہوں نے کہا کہ دراصل ممبر قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی اور ان کے بھائی صوبائی سینئر وزیر بلوچستان سردار محمد صالح بھوتانی نے حاجی خمیسہ جاموٹ گوٹھ اور وندر ڈیم ایریا میں جہاں جہاں لوگوں کی املاک گھر متاثر ہونے کا اندیشہ تھا اور جو ممکنہ متاثرین ہیں ان کے لیے صوبائی سینئر وزیر بلوچستان اور ان کے بھائی رکن قومی اسمبلی نے فنڈز کی منظوری کروائی اور ان کے لیے فنڈز ریلیز کرائے علاقے کے ممکنہ متاثرین نے بھوتانی برادران سے شکایت کی کہ ان کے نام متاثرین کی لسٹ سے نکال دیئے گئے ہیں جس پر رکن قومی اسمبلی نے موقف اختیار کیا تھا کہ جو اصل متاثرین ہیں جن کے نام کسی بھی بنا پر متاثرین کی لسٹ سے نکالے گئے ہیں ان کے نام لسٹ میں شامل کروا کر ان کو ان کا حق دلایا جائے گا حقداروں کو ان کا حق دلائیں گے اور ایسے لوگ جو ڈیم ایریا اور حاجی خمیسہ جاموٹ گوٹھ سے تعلق نہیں رکھتے ہیں اور نہ ہی ممکنہ متاثرین میں شامل نہیں ہیں ان کے نام لسٹ سے کاٹ کر اصل متاثرین کو ان کا حق دلائیں گے وندد ڈیم ایریا اور حاجی خمیسہ جاموٹ گوٹھ کے کسی بھی متاثرہ شخص کا نام لسٹ سے نہیں نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وندر ڈیم کی منظوری 2009/10 میں ہوئی تھی اور سروے بھی کیا گیا لیکن معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا 2018 میں میں قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو انہوں نے اس مسلے کو دوبارہ اٹھایا اور ٹینڈر کروائے صوبائی حکومت کی جانب سے ڈیم کی تعمیر کے باعث متاثر ہونے والے ڈیم ایریا میں شامل حاجی خمیسہ جاموٹ گوٹھ و دیگر متاثر ہونے والے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے سروے کیا گیا اتفاق سے سیاسی بنیادوں پر کچھ غیر متعلقہ لوگوں کو فرضی ناموں کے ذریعے متاثرین ظاہر کرکے ان کے نام سروے لسٹ میں شامل کیا گیا اور ان کے ناموں پر فنڈز ریلیز کرانے کی کوشش کی گئی جس پر اعتراض ہوا باقی کسی بھی شخص جو کہ متاثرین میں شامل ہے اس کو اس کا حق دیا جائے گا کسی بھی حقدار کو اس کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز جو پریس کانفرنس کی گئی اس میں صرف سیاسی مخالفت اور اپنی من کی بھڑاس نکالنے کے لیے بے بنیاد الزامات لگائے گئے جن کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے وہ صرف اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کے علاہ کچھ بھی نہیں تھی جن لوگوں نے پریس کانفرنس کے دوران منفی پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی سیاسی قد کو بڑھانے کی کوشش کی ہے وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہونگے اور حقیقی متاثرین کو ان کا حق ملے گا فقط ان لوگوں کا نام معاوضے کی لسٹ سے نکالے جارہے ہیں جہنوں نے گزشتہ صوبائی حکومت کی ایما پر اس وقت بہتی ہوئی گنگا سے ہاتھ دھوئے اور غریبوں کے حق کو مادر شیر سمجھ کر پیتے رہے پریس کانفرنس میں محمد عالم جاموٹ، رحیم بخش جاموٹ، پیربخش جاموٹ، احمد جاموٹ، غلام نبی جاموٹ، اعجاز علی جاموٹ، محمد عارف جاموٹ، محمد آصف جاموٹ، نواز علی جاموٹ، کریم بخش باکھڑہ، جان محمد باکھڑہ، محمد رفیق باکھڑہ، علی بخش جاموٹ و دیگر بڑی تعداد میں شامل تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں