شہباز شریف کے کپڑے سلامت ہیں لیکن قوم بے لباس ہو چکی، سراج الحق

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے کپڑے تو سلامت ہیں لیکن قوم بے لباس ہو چکی ہے۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کپڑے بیچ دوں گا لیکن ان کے کپڑے تو سلامت ہیں آج قوم بے لباس ہو چکی ہے لیکن مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریکیں چلانے والے پی ڈی ایم کے رہنماء آج مہنگائی پرکیوں خاموش ہیں؟ جب کہ نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے آج عوام دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہوگئے ہیں اور لوگوں نے تو مسکرانا بھی چھوڑ دیا ہے، رمضان کی آمد کے موقع پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی لائی جائے۔سراج الحق نے کہا کہ نیب کے دفاتر موجود تو ہیں لیکن وہاں مکھیاں ما ری جا تی ہیں، بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضا فہ کرکے عوام کو جھٹکا دیا گیا ہے، تین افراد کے قتل میں ملوث سر دار کو تو ضمانت دے دی گئی لیکن مولانا ہدایت الرحمان کو رہا نہیں کیا جا رہا ہے، بلو چستان کا کوئی بلوچ بھی سی پیک کے خلاف نہیں بس وہ یہی کہتا ہے کہ سی پیک سے بلو چستان کو بھی فائد ہ حاصل ہو نا چاہیے۔ادھر ادارہ شماریات نے ہفتہ وار مہنگائی کے اعدادوشمار جاری کردئیے، جن سے معلوم ہوا ہے کہ کم توڑ مہنگائی کی اونچی اڑان جاری ہے اور ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 42 فیصد سے بھی اوپر چلی گئی، ایک ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں 1.37 فیصد اضافے سے 42 اعشاریہ 27 فیصد تک پہنچ گئی، ایک ہفتے میں 29 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 8 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 14 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔بتایا گیا ہے کہ جن 29 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں آلو،پیاز،چینی ،ٹماٹرصابن،آٹا،مٹن،بیف،ویجی ٹیبل گھی ،دال ماش،سرسوں کا تیل،چائے،ماچس،چاول اورکھلا تازہ دودھ سمیت دیگر اشیائے ضروریہ شامل ہیں، جن 8اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے ان میں چکن،لہسن،انڈے،ایل پی جی ،دال چنا،دال مسور اوردال مونگ پر مشتمل اشیاء شامل ہیں البتہ 14اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں