بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں نوجوانوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا انقلاب سے کم نہیں، عبدالولی کاکڑ

کوئٹہ : گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا کہ یونیورسٹی بنیادی طور پر نئی نسل کیلئے تعلیم و تربیت کا اعلیٰ ترین مرکز ہے، اس سلسلہ میں یونیورسٹی آف لورالائی کا قیام لورالائی اور اس سے متصل علاقے کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف لورالائی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مقصود احمد اور ان کی پوری ٹیم کی شعوری کاوشوں کو لائقِ تحسین قرار دیا اور فارغ التحصیل طلباءو طالبات کو مبارکباد پیش کی. ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز لورالائی یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں کل دو سو دس اسٹوڈنٹس کو گریجویشن کی اسناد ملیں. جن میں پچاس طالبات بھی شامل ہیں. اس موقع پر اراکین صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو، احمد نواز بلوچ، علاقے کے معتبرین، والدین اور طلباءو طالبات کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ لورالائی یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ معاشرے کی بہتری، تحفظ اور خوشحالی کے لئے یونیورسٹی کی تعلیم کلیدی اہمیت کی حامل رہی ہے یونیورسٹی آف لورالائی کے پہلے کانووکیشن میں شرکت ہم سب کیلئے باعثِ فخر و مسرت ہے انہوں نے کہا کہ 2012 میں بننے والا یہ تعلیمی ادارہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج اس قابل ہو گیا ہے کہ یہاں کے طلباءو طالبات ایک اعزاز کے ساتھ گریجویٹ ہونے جا رہے ہیں۔ گورنر نے تمام فارغ التحصیل گریجویٹس، انکے والدین اور اساتذہ کرام کو بھی مبارکباد پیش کی جنہوں نے اس تعلیمی سفر میں ان کی بھرپور رہنمائی کی. آج کا یہ دن اساتذہ کی انتھک کاوشوں، والدین کی توجہ اور طلباءو طالبات کی محنت کا نتیجہ ہے. گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا کہ یونیورسٹی اف لورالائی کا قیام بھی اس ضرورت کے تحت عمل میں لایا گیا تھا اور 2012 سے لیکر اب تک اس یونیورسٹی نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور تحقیق کے رحجان کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ موقر تعلیمی ادارہ تعلیمی ترقی کا سفر اسی طرح جاری رکھے گا اور خطے کو جدید تحقیق اور مہارتوں سے روشن کرنے میں اہم کردار ادا کریگا. گورنر بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کے دورافتادہ علاقوں کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تعلیم کے شعبے میں ایک انقلاب سے کم نہیں ہے۔ موجودہ دور میں لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ خواتین ہماری کل آبادی کا نصف سے بھی زائد حصہ ہے لہٰذا انکی تعلیم و تربیت، قوم اور معاشرے دونوں کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک پڑھی لکھی اور باشعور ماں ہی اپنے بچوں کو درست تعلیم و تربیت فراہم کرسکتی ہے. انہوں نے صوبے بھر کے تمام طلباءو طالبات کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا کہ آپ کا مستقبل بہت روشن ہے اور آپ کی جدید سائنسی تعلیم سے وابستگی ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل اور معاشی ترقی میں سنگ میل ثابت ہو گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اس خطے کی بہتری اور پائیدار ترقی میں یونیورسٹی آف لورالائی کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوں. قبل ازیں یونیورسٹی آف لورالائی کے احاطے میں گورنر بلوچستان نے لاءکالج اور مین لائبریری کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا. گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے یونیورسٹی آف لورالائی کے فارغ التحصیل گریجویٹس میں اسناد تقسیم کیے. بعدازاں گورنربلوچستان نے علاقے کے معتبرین اور قبائل عمائدین سے علیٰحدہ ملاقات کی اور انہوں کو درپیش مسائل ومشکلات حل کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں