وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت 13 ویں ایپکس کمیٹی کا اجلاس، فیصلوں کی منظوری دیدی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے 13 ویں صوبائی اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کی منظوری دے دی۔ اپیکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعلیٰ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ وزیراعلیٰ نے یہ منظوری محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے ارسال کی جانے والی ایک سمری پر دی۔ وزیراعلیٰ کی منظوری سے بیلہ روڈ ایکسیڈینٹ میں جاں بحق 43 افراد سے متعلق سی ایم آئی ٹی تفصیلی انکوائری کرے گی۔ محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لئے ٹرانسپورٹ کمپنیاں باقاعدہ اسٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجر بنائیں گی۔ وہ ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیوز جو کسی غلطی اور کوتاہی کے مرتکب پائے گئے ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائی گی۔ مسافر بسوں میں پٹرول اور آتش گیر مادے کی ترسیل پر مکمل پابندی ہوگی۔ سی پیک اور نان سی پیک منصوبوں اور غیر ملکیوں خصوصاً چینی باشندوں کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین مربوط کوآرڈینیشن قائم کی جائے گی۔ تعلیمی اداروں کے سیلیبس کو اینٹی اسٹیٹ اور تخریبی مواد سے مکمل پاک کیا جائے گا۔ غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے کے لئے تشکیل شدہ کمیٹی کا ماہانہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا۔ منظور شدہ جیل اصلاحات پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا۔ آئی جی جیل خانہ جات کو تمام قیدیوں کی سیکورٹی اور قیدیوں کو جیل مینول کے مطابق تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ منشیات کی خرید وفروخت کا مکمل تدارک کیا جائیگا۔ سٹی نالہ میں ڈرگ مافیا کیخلاف آپریشن کرنے والی پولیس ٹیم کے لئے منظور شدہ ایوارڈ فراہم کیا جائے گا۔ محکمہ سماجی بہبود کو ڈرگ بحالی مراکز پر زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ کوئٹہ کے ٹریفک کے مسئلے کے حل کے لئے ٹریفک انجینئرنگ بیورو کی تجویز پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے سی ٹی ڈی کی افرادی قوت اور استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا۔ کوئٹہ میں پی ایس ایل کے نمائشی میچ کے کامیابی سے انعقاد پر انتظامیہ، سیکورٹی اہلکاروں اور محکمہ اسپورٹس کے نمائندوں کو تعریفی اسناد اور سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کے لئے بطور اعزازیہ ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ دی جائی گی۔ تمام ڈویژنل کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو باقاعدگی سے ضلعی ریویو کمیٹی کے اجلاس منعقد کرنا اور محکمہ داخلہ کے ساتھ اجلاس کے منٹس شیئر کرنا ہونگے۔ کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ کے لئے تمام ضروری فنڈز اور آلات مہیا کرنا اور گوادر سیف سٹی پروجیکٹ کے نظرثانی شدہ پی سی ون پر عملدرآمد۔

اپنا تبصرہ بھیجیں