قلعہ عبداللہ، بد امنی، چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کا سلسلہ تھم نہ سکا
قلعہ عبداللہ(یو این اے )ضلع قلعہ عبداللہ میں بدامنی،چوری ڈکیتی اور دیگر غیر قانونی و انسانی وارداتوں کا سلسلہ تھم نہ سکا ۔حالیہ کئی عرصے میں درجنوں فائرنگ و چوری ڈکیتی کے ایسے واقعات ہوگئے ہیں جس سے عوام میں شدید قسم کی بیچینی پائی جاتی ہے اور خود کی حفاظت کے لالے پڑھ گئے ہیں رپورٹ کے مطابق ضلع قلعہ عبداللہ میں گزشتہ چھ مہینوں کے دوران درجنوں ایسے واقعات ہوگئے ہیں جس میں ضلع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان زخمی و قتل ہوئے ہیں قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ گزشتہ آٹھ مہینوں کے دوران درجنوں ہڑتال بھی ہوگئے ہیں جس سے آئے روز مسافروں،عورتوں،بوڑھوں،بچوں اور معذور افراد کو قلعہ عبداللہ میں اذیت سے گزرنا پڑا ہے جس نے ضلع قلعہ عبداللہ کی امیج کو بری طرح متاثر کیا ہے قلعہ عبداللہ جہاں پر دیگر بنیادی مسائل کیساتھ ساتھ امن و امان کا مسئلہ ایک سنگین مسئلہ ثابت ہوسکا ہے جس پر ابھی تک قابو نہیں پایا جاسکا ہے ضلع قلعہ عبداللہ کے مختلف سیاسی و سماجی حلقوں نے حکام بالا سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ہنگامی اور بحرانی صورتحال پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے اور جرائم پیشہ عناصر اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے قلعہ عبداللہ کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں کی بڑی آبادی ملک کے دیگر شہروں میں سال بھر مزدوری کرتے ہیں اور ایک رمضان کیلئے اپنے علاقوں میں آتے ہیں ان دنوں ان مسافروں کے ساتھ نئی گاڑیاں،موٹر سائیکل و گھر کا گزر بسر کرنے کیلئے تھوڑا سا رقم موجود ہوتا ہے جرائم پیشہ عناصر و چور ان کا خصوصی طور پر پیچھا کرتے ہوئے ان کی جان لینے سے بھی باز نہیں آتے چوری ڈکیتی و دیگر غیر قانونی وارداتوں کے تسلسل میں کمی لانے کیلئے قلعہ عبداللہ تا گلستان،جنگل پیرعلیزئی تا عبدالرحمن زئی،میزئی آڈہ تا کولک اور دیگر ملحقہ علاقوں میں لیویز و پولیس گشت جدید درکار وسائل کیساتھ یقینی بنایا جائے ۔


