نا تجربہ کار اساتذہ کو عارضی بنیادوں پر 25000 دینا تعلیم کیساتھ مذاق ہے، بی پی ایل اے
کوئٹہ :بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی مرکزی کابینہ کی ہدایت کی روشنی میں بلوچستان بھر کے کالجز میں یونٹ اجلاس منعقد کئے گئے سیکرٹری کالجز کے پروفیسرز اور تعلیم دشمن اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہوئے کالجز اور کالج اساتذہ کو درپیش مسائل کے حل میں سست روی اور غیر سنجیدگی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ یونٹس اجلاس میں حالیہ دنوں میں پروفیسرز کی اضافی خدمات کے بدلے میں ملنے والی اجرت میں کٹوتی کو نہ صرف شرمناک قراردیا بلکہ اسے تعلیم دشمن عمل سے تعبیر کیا اور کہا کہ ریمونریشن کی مد میں ماہانہ پندرہ ہزار کو بیک جنبش قلم 7500ہزار کرنے جبکہ نا تجربہ کار اساتذہ کو عارضی بنیادوں پر 25000 دینے کو تعلیم کے ساتھ مذاق قرار دیا گیا بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر طارق بلوچ ، جنرل سیکرٹری پروفیسر رازق الفت کاکڑ اور دیگر مرکزی نمائندوں نے نو منتخب بی پی ایل اے یونٹوں کے عہدیداروں اور کالج اساتذہ سے حالیہ ملاقاتوں میں پیش آمدہ صورت حال کے حوالے سے سیکرٹری کالجز کی طرف سے حیرت انگیز طور پر بعض ایسے فیصلوں اور ان کی سوشل میڈیا پر تشہیر پر اپنے شدید تحفظات اور خدشات کا اظہار کرتے ہوئے علم و دانش کے امین اساتذہ کے ساتھ ہر قسم کی انتقامی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کے سد باب کے لیے ہر یونٹ کی طرف سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان جو ملک کا مستقبل ہے ان کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی وسائل اور اصلاحات میں بہتری کی بجائے غلط بیانی اور بے بنیاد اعداد و شمار سے گمراہ کن فیصلے کرکے سیکرٹری کالجز کے اقدامات کو بلوچستان کے نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے ان کی فوری روک تھام پر زور دیا گیا۔ بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن نے اپنے تمام نو منتخب یونٹ ذمہ داروں سے رابطوں کے پہلے مرحلے میں اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مہنگائی کے اس دور میں اضافی اجرتوں میں کٹوتیوں سمیت ہر طرح کی انتقامی کاروائیوں کے علاوہ سیکرٹری کالجز کی جانب سے دن رات سوشل میڈیا پر ہتک آمیز رویے پر حکومت اور بلوچستان کے سنجیدہ حلقے فوری نوٹس لے لیں تاکہ اساتذہ اپنے فرائض منصبی کو ذہنی یکسوئی کے ساتھ ادا کرتے ہوئے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔


