بلوچستان کے سر حدی علاقوں میں ضرورت سے زیادہ اشیاءخوردنوش رکھنے پر پابندی
اسلام آباد / کوئٹہ (یو این اے )وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی زیر صدارت گندم، چینی، کھاد و دیگر اشیائے ضروریہ کی بلوچستان کے راستے افغانستان سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے دوسرا اجلاس منعقد ہوا جس میں بلوچستان کے راستے افغانستان ان سمگلنگ میں ملوث افسران اور عملہ کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ،اداروں کے جوائنٹ آپریشن اور انٹیلیجنس شیئرنگ پر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیااجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر تجارت سید نوید قمر، وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی طارق بشیر چیمہ، وزیر صنعت مخدوم مرتضی محمود ، معاون خصوصی برائے ریوینیو طارق محمود پاشا،سیکرٹری داخلہ علی مرتضی، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو آصف احمد اور وفاقی و صوبائی اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی ملک سے باہر سمگلنگ ایک ہنگامی صورتحال کا باعث بن رہی ہے، سب سے پہلے تو جو لوگ اس غیر قانونی کام سے منسلک ہیں اور اس میں سہولت کار ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانا ہوگی انہوں نے ہدایت دی کہ کوئٹہ سے پنچپائی نوکنڈی نوشکی تفتان بارڈر پر جوائنٹ چیک پوسٹس اور جوائنٹ پٹرولنگ پر عملدرآمد کو جلد سے جلد یقینی بنایا جائے بلوچستان میں چمن باڈر نوشکی اور تفتان بارڈر کنٹرول کے نظام کو بھی مزید فعال بنانا ہو گا اور اس کے ساتھ بین الاصوبائی نقل وحمل پر بھی نظر رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اشیائے ضروریہ پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لگائے جانے کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ ضبط ہونے والی اشیا کے ذریعے اس میں شامل عناصر کی سرکوبی کی جا سکے سرحدی اضلاع میں ضرورت سے زیادہ اشیائے ضروریہ کی سپلائی کو روکنے کیلئے اقدامات عمل میں لائے جائیں انہوں نے کہا کہ سرحدی اضلاع جن میں چمن نوشکی تفتان گوادر میں ضرورت سے زیادہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، بارڈر کے ساتھ ساتھ، سمگلنگ کو روکنے کیلئے اس کے آغاز کی جگہ سے لے کر اس کو راستے میں روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے، اس سلسلے میں اگر قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے تو وزارت قانون اور ایف بی آر جلد اس ٹاسک کو مکمل کریں۔اجلاس میں پہلے لیے گئے فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا


