ڈنک واقعہ کی مذمت،بالگتر میں ہمارے گھر پرحملے دو افراد جاں بحق اوردو زخمی ہوئے، کسی نے ساتھ نہیں دیا، خواتین کی پریس کانفرنس

پنجگور:بالگتر حال پنجگور کے رہائشیوں نازل رسول جان،ملائکہ کاکا پھلان،زرینہ مراد اور دیگر خواتین نے اپنی رہائش گاہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ دنوں تربت ڈھنگ میں ہونے والی سانحہ پر اپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ.ڈنک واقعہ پر ہمیں دلی.صدمہ ہوا اور بانک ملکناز کی شہادت اور اْن کی کمسن بچے کے زخمی ہونے پر ہمیں افسوس ہوا اور جس طرح اْن کی شہادت اور بچی کے زخمے ہونے پر بلوچستان بھر میں جو احتجاج ہو رہے ہیں اور اْن کے قاتلوں کی گرفتاری اور برمش کو انصاف دینا ایک خوش آئند عمل ہے لیکن گزشتہ مہینہ بالگتر میں ہمارے گھر پر حملہ اور دو افراد کی شہادت اور دو طالب علم بی بی اسما اور اْسامہ کے شدید زخمی ہونے پر کسی بھی سیاسی جماعت اور سرکار نے ہماری داد رسی اور ہمیں انصاف دینے کی دور کی بات ہے ہمارے ساتھ کسی نے بھی تعزیت نہیں کی. اگر برمش کو اپنی بیٹی اور شہید ملکناز کو اپنی بہن قرار دینے والے بی بی اسماء اور اْسامہ کیلئے آواز بلند کرتے اور ہمیں انصاف دلاتے تو ہمیں خوشی ہوتی لیکن ہماری غربت کی وجہ سے انسانی حقوق کی تنظیمیں اور انسان دوست لوگوں نے ہمیں بھول کر ہمیں مایوس کردیا ہے. برمش کی طرح ہمارے اسماء اور اْسامہ کو انصاف دلانا بھی یہاں کے سیاسی پارٹیوں اور سول سوسائٹی کا فرض بنتا ہے کہ وہ ڈھنک واقعہ کو بلوچ چادر و چار دیواری کی تقدس کی پامالی کا نام دیتے ہیں تو بالگتر میں بھی بلوچ چادر و چاردیواری کی تقدس کو پامال کرکے کمسن طالب علموں کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا ہے.انہوں نے کہا کہ ابھی تک اْسامہ اور بی بی اسماء ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور اْن کی علاج و معالجہ کیلئے لاکھوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں اور مزید لاکھوں روپے درکار ہیں جس کی ہمیں گنجائش نہیں.انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر پر حملہ اور ہمارے نوجوانوان کو شہید کرنے اور ہمارے دو کمسن طالب علموں کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے والے ہمیں ہمارا قصور بتادیں کہ ہمارا قصور کیا ہے اور ہمیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے.انہوں نے کہا کہ ظلم تو ظلم ہے. اگر برمش اور اْس کی ماں پر ظلم ہوا ہے اْس پر ہمیں صدمہ ہے لیکن ظلم کے خلاف بات کرنے والے اْسامہ اور بی بی اسماء کو انصاف دلانے کی بات کریں اور بالگتر میں ہونے والے ظلم و زیادتی کو بلوچ روایت کے منافی قرار دیں.انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی انصاف دی جائے اور ہم انسان دوست لوگوں اور یہاں کے انسانی حقوق پر کام کرنے والوں سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں بھی انصاف دی جائے اور یہاں کے عوام ہماری آواز بنیں. انہون نے کہا کہ اب تک انتظامیہ یا دیگر نے ہماری حال پرسی نہیں کی ہے حتی کہ ہمارے ایف آئی آر ایک ہفتے بعد درج کیا گیا انہوں نے چیف جسٹس ٹ وزیر اعلء بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان وزیر داخلہ بلوچستان اور دیگر سے انصاف کی اپیل ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں