بلوچستان کی خلاف قانون پی ایس ڈی پی 2022-23ءسے متعلق ہائی کورٹ میں سماعت
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس جناب جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس سرداراحمدحلیمی پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے بلوچستان کی خلاف قانون پی ایس ڈی پی 2022-23 کے خلاف قانون تشکیل کے حوالے سے دائر کردہ کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے دوران درخواست گزار نے موقف اختیارکیاکہ بلوچستان میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے نام پر عوام کو بیوقوف بنانا کا سلسلہ حکومتی سطح پر شروع کیاگیا ہے اپنے حلقوں میں اربوں روپے ترقیاتی اسکیمات کے نام پر خرچ کرنے والے بااثر ارکان اسمبلی کے پیٹ بھرنے کا نام نہیں لے رہے اور صوبے کی تمام اضلاع کیلئے بنائے گئے منصوبوں کی تمام رقم اپنے اپنے اضلاع میں منتقل کی گئی ہے، پی ایس ڈی پی میں شامل 6 ارب روپے کی لاگت سے اسکیم جس میں اسٹبلشمنٹ آف 200 نیو پرائمری سکول 200 ماڈل سکول پچاس نیو ہائی سکول کی تعمیر کرنی تھی کہ تمام رقم دو اضلاع میں تقسیم کی گئی، پی ایس ڈی پی نمبر 5929 Z 1203 کے تحت بلوچستان میں 100 نئے مڈل اسکول کی تعمیر جس پر 1500 ملین لاگت آنی ہے، پی ایس ڈی پی نمبر 6099 زیڈ 2021.1200 بلوچستان میں 200 نئے پرائمری اسکول کی تعمیر جس پر 2000.0 ملین لاگت آنی ہے، پی ایس ڈی پی نمبر 6309 Z 2021. 1076 200 پرائمری اسکول کو مڈل لیول تک اور 150 مڈل اسکول کو ہائی لیول تک اپ گریڈ کرنا ہے جس 1000 ملین لاگت آنی ہے، پی ایس ڈی پی نمبر 6314 Z.2021.1204 بلوچستان میں 50 نئے ہائی اسکولوں کی تعمیر جس پر 1500 ملین لاگت آنی ہے صوبے کے تمام اضلاع کیلئے مختص اس رقم سے زیارت 1 ارب 12 کروڑوں کوہلو 1 ارب 77 کروڑ جاری کیے گئے ہیں جو کہ ایک وزیر تعلیم اور دوسرا وزیر پی اینڈ ڈی کا حلقہ ہے جو کہ خلاف قانون ہے، سماعت کے دوران بینچ نے حکم دیاکہ بلوچستان میں سکولوں کی تعمیر کے حوالے سے 6 ارب روپے کے منصوبے کیلئے فنڈز کو تاحکم ثانی روک دیاجاتاہے جبکہ بلوچستان بھر سکولوں کی تعمیر و اپ گریڈیشن کے لئے مختص 6 ارب روپے سے زیارت 1 ارب 12 کروڑوں کوہلو 1 ارب 77 کروڑ 74 لاکھ و دیگر کو فنڈز کی ریلیزز و دیگر عمل بھی تاحکم ثانی روک دیاجاتاہے بعدازاں سماعت ملتوی کردی گئی۔


