بلوچستان میں گندم پیدا ہوتی ہے نہ چینی، افغانستان اسمگلنگ کا بہانہ بنا کر بحران پیدا کیا جارہا ہے، اسلم بھوتانی
اسلام آباد، کوئٹہ (این این آئی) آزاد رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی نے کہاکہ مجھے تکلیف ہوئی جب عدالت نے کارروائی مانگی،وہ کون ہوتے ہیں ہمیں بلانے والے ،انہوں نے اس پارلیمنٹ سے جنم لیا ہے جو بھی آتا ہے وہ پارلیمنٹ پر حملہ آور ہو جاتا ہے،ہمیں ہمت کرنا ہوگی اور اس جمہوریت کو بچانا ہے۔قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے انہوںنے کہاکہ میں تجویز کرتا ہوں کہ ان کو کورا کورا جواب دے دیں کہ ہم کارروائی نہیں دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ اداروں کی عزت تب ہوتی ہے جب وہ اپنی عزت کراتے ہیں،اب زبردستی والا دور گیا۔ انہوںنے کہاکہ ہم سب ججز کی بات نہیں کر رہے،ہر جگہ کچھ خراب لوگ ہوتے ہیں جو سارے معاشرے کو خراب کردیتے ہیں،ان ہی میں سے ایک جج آپ کی دعوت پر آئے۔ انہوںنے کہاکہ ہم ان ججز کی بات کر رہے ہیں جو پارٹی بنے ہوئے ہیں،اب الیکشن نومبر میں ہی ہوں گے۔ انہوںنے کہاکہ یہ کون ہوتے ہیں ہم سے پوچھنے والے ،آپ اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ ہم آپ کی عزت کریں،اب توہین عدالت سے ڈرانے والے دور گئے۔ انہوںنے کہاکہ جو ٹکٹیں دلوا رہا ہے سنا ہے وہ مخالفین سے مل کر کیس ہروا دیتا تھا،یہ توہین لگاتے لگاتے ہی خود ریٹائر ہو جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ ہم ایوان کی کارروائی نہ دینے کا واضح اعلان کریں ،جتنی چاہیں توہین عدالت لگا دیں۔ اسلم بھوتانی نے کہاکہ کہتے ہیں بلوچستان سے گندم اور چینی کی سمگلنگ ہو رہی ہے،بلوچستان میں نہ گندم پیدا ہوتی ہے نا چینی پیدا ہوتی ہے،وہاں پر موجود ایجنسیاں کہہ رہی ہیں کہ یہ چیزیں افغانستان سمگل ہو رہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کہاں حب اور کہاں افغان بارڈر ہے،حب پر سختیاں کیوں کر رہے ہیں،کچھ ٹرک گرے ہیں تو پتہ چلا کہ اوپر سیمنٹ اور نیچے چینی کی بوریاں تھیں ،اس سمگلنگ کو روکیں نہ کہ ایک یا دو بوریوں کو پکڑ لیں۔ایم کیو ایم کے رکن محمد ابو بکر نے کہاکہ جب سیاستدانوں کی آڈیو ویڈیو لیک کی جاتی تھیں تو انھیں ذلیل کیا جاتا تھا،آج جن ججز کی آڈیوز آرہی ہیں کیا ان کا بھی کوئی حساب لے گا؟،کیا سیاستدان ہی سوال جواب کے لیے رہ گئے ہیں،ججوں کی آڈیو ٹیپس پر فورنزک کرایا جائے ،ہماری اور ججوں کی تنخواہوں کا موازنہ کرلیا جائے۔


