کبھی نظریہ پاکستان کے خلاف نہیں رہا، میری باتوں سے دل آزاری پر معذرت چاہتا ہوں، صادق عمرانی

کوئٹہ (آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی نے اسمبلی فلور پر اپنی تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والے غلط پروپیگنڈہ کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میری بلوچستان اسمبلی میں کی گئی تقریر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور میری گفتگو کے ایک مخصوص حصے کو دانستہ طور پر سوشل میڈیا پر وائرل کرکے ایک غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر میری پوری تقریر سامنے لائی جائے تو میرا واضح موقف خود سامنے آ جائے گا کہ میں نے اسمبلی فلور پر اصل میں کیا بات کی اور میرے الفاظ کا مقصد کیا تھا میری گفتگو اسمبلی کی کارروائی اور سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے میں نے اسمبلی فلور پر جو بات کی اس کا مقصد کسی ریاستی ادارے کسی شخصیت یا پاک فوج کی توہین ہرگز نہیں تھا۔ میں نے ایک مخصوص صورتحال کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جو بحیثیت رکن اسمبلی میرا قانونی اور آئینی حق ہے پاکستان پیپلز پارٹی وفاق کی جماعت ہے ہم ملک کی سلامتی، جمہوریت آئین وفاق کی مضبوطی اور قومی یکجہتی پر یقین رکھتے ہیں۔ پارٹی قیادت اور کارکنوں کی طرح پاکستان اور پاک فوج سے میری وفاداری بھی غیر متزلزل ہے بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف ایک مشکل اور کٹھن جنگ جاری ہے اس جنگ میں ہم اپنی ریاست اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں میں بذاتِ خود اور میرے بچے بھی دہشتگردی کے خلاف ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں 14 اگست یوم آزادی کے موقع پر بھی ہم نے بھرپور انداز میں جشنِ آزادی منایا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف پوری قوم متحد ہے پاکستان کی سلامتی خودمختاری اور قومی وقار ہمارے لیے مقدم ہے میرے چند الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر بنیاد بنا کر میرے خلاف جو تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ حقیقت پر مبنی نہیں پاکستان ہماری شناخت اور پاک فوج ہمارا فخر ہے ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں میری پوری تقریر اور اسمبلی کا ریکارڈ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ میرا مقصد کسی ادارے یا شخصیت کی توہین نہیں تھا بلکہ ایک مخصوص صورتحال پر اپنے آئینی اور سیاسی موقف کا اظہار رنا تھا پاکستان ہماری شناخت ہے اور پاک فوج ہمارا فخر ہے دہشتگردی کے میں اپنی گزشتہ تقریر کے حوالے سے پیدا ہونے والی غلط فہمی پر مختصر اور واضح وضاحت دینا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے، میری گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ میری تقریر کے چند الفاظ کو الگ کرکے متنازع بنایا گیا اور پھر انہیں ایک مخصوص تاثر کے ساتھ سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔ میری گفتگو کا مقصد نہ ریاستی اداروں کی توہین تھا اور نہ ان کے خلاف کوئی بات کرنا۔میں ریاست پاکستان اور اس کے تمام اداروں کا احترام کرتا ہوں۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ہماری افواج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے جوانوں نے جو قربانیاں دی ہیں، میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔یہ صرف آج کی وضاحت نہیں، بلکہ میری پوری سیاسی زندگی اور پاکستان پیپلز پارٹی کا مستقل موقف ہے۔ ہماری جماعت نے جمہوریت، آئین اور پاکستان کے استحکام کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ موجودہ اتحادی حکومت میں بعض عناصر میرے بطور پارلیمانی لیڈر اور وزیر آبپاشی کردار سے خوش نہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بعض لوگ سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے میری گفتگو کو متنازعہ بنا رہے ہیں۔ اگر کسی کی نظر وزارت پر ہے تو اسے سیاسی اختلاف کے لیے اداروں کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔میرا سیاسی کردار کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ بلوچستان کے عوام میری جماعت اور میرے حلقے کے لوگ میری جدوجہد سے واقف ہیں۔ آپ، اسپیکر بھی میری سیاسی جدوجہد اور میرے موقف سے بخوبی آگاہ ہیں۔میں یہ بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں وزارتِ اعلی کے لیے امیدوار تھا، لیکن جب پارٹی قیادت نے میر سرفراز بگٹی کو قائد ایوان نامزد کیا تو میں نے پارٹی فیصلے کا احترام کیا اور ان کی حکومت کو مکمل تعاون فراہم کیا۔جہاں تک اسلام آباد جانے والے وفد یا کسی فرد کے جذبات مجروح ہونے کا تعلق ہے، اگر میرے الفاظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو مجھے اس پر افسوس ہے۔ میرا مقصد کسی کی توہین یا دل آزاری ہرگز نہیں تھا۔لیکن معزز ایوان کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ایک جملے یا چند الفاظ کو پوری تقریر سے الگ کر کے کسی شخص کے موقف کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔میرا موقف آج یہی بالکل واضح ہے میں وزیر رہوں یا نہ رہوں، ریاست اور پاکستان کے مفاد کے حوالے سے میرا موقف تبدیل نہیں ہوگا۔میں اسی ایوان میں دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھاتا رہا ہوں۔ میں اور میرے خاندان کو دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔ مجھ سے بھتہ طلب کیا گیا، میرے گھر کے باہر دھماکہ کیا گیا۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف میری جدوجہد کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔میں سوشل میڈیا کی سیاست نہیں کرتا۔ میرا کردار میرے حلقے، میری جماعت اور بلوچستان کے عوام کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے۔میں آج کسی پر الزام لگانے یا سیاسی بحث کو طول دینے کے لیے کھڑا نہیں ہوا۔ میری خواہش صرف یہ ہے کہ میری وضاحت ایوان کے ریکارڈ کا حصہ بنے اور میری گزشتہ گفتگو کے حوالے سے پیدا ہونے والی غلط فہمی دور ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں