نوکنڈی میں بارڈر کی بندش اور روزگار نہ ہونے سے نوجوان برائیوں کی طرف راغب ہونے لگے

نوکنڈی (یو این اے) بلوچستان کے علاقے نوکنڈی بارڈرز کی بندش اور ریکوڈک و سیندک میں ملازمت کے حصول کے لئے سیکڑوں بیروزگار نوجوان حیران و پریشانی کی حالت میں سماجی برائیوں کا شکار ہوسکتے ہیں، یاد رہے افغانستان اور ایرانی بارڈرز پر باڑ لگانے اور اب حکومت کی جانب سے کھاد اور چینی کے کاروبار پر پابندی سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں، اکثر بیروزگاروں نے قرضے لیکر یا اپنے گھر والوں کے زیورات فروخت کرکے قسط پر گاڑیاں خریدیں اب کاروبار بند ہونے کی وجہ سے سیکڑوں نوجوانوں کے لئے گاڑیوں کی اقساط دینے اور گھر کے چولہے جلانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ دوسری جانب ریکوڈک اور سیندک میں نوکنڈی کے نوجوانوں کو ملازمتیں نہیں دی جارہی ہیں، نوجوانوں کے مطابق ریکوک میں ضلع چاغی سے باہر بلکہ اب صوبہ بلوچستان سے باہر کے لوگوں کو بڑی تیزی کے ساتھ ملازمتیں مل رہی ہیں جبکہ ہمیں انٹریوز کے لیے شارٹ لسٹ بھی نہیں کیا جارہا، لیبرزکے لئے بھی ہمیں ترجیع نہی دی جارہی، پروجیکٹ انتظامیہ نے شروع میں جو بلند و بانگ دعوے مقامی آبادی کے حوالے سے کیے تھے وہ سب جھوٹ تھے اب ظاہر ہورہا ہے کہ کمپنی مینجمنٹ کے افسران غیر مقامی کنٹریکٹرز کے ساتھ مل کر بندر بانٹ کے ذریعے اپنے رشتہ داروں اور اپنے علاقہ کے لوگوں کو یہاں کھپانے کی سازش میں مصروف ہیں اگر حالت یہی رہی تو علاقہ کے نوجوان مجبوراً ذہنی پریشانیوں کی وجہ سے منشیات یا دیگرسماجی برائیوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں