بلوچستان کی جامعات کے مالی بحران حل نہ ہونے تک تمام کیمپس بند رہیں گے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی

کوئٹہ :جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیر اہتمام 4مئی بروز جمعرات کو بھی اپنے ماہانہ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، جامعہ بلوچستان سمیت دیگر جامعات کو درپیش سخت مالی و انتظامی بحران کے مستقل حل، بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 کی پالیسی ساز اداروں میں اساتذہ کرام، آفیسران، ملازمین اور طلبا وطالبات کی منتخب نمائندگی، غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کی برطرفی ، آفیسران و ملازمین کی پروموشن، آپ گریڈیشن اور ٹائم سکیل کی فراہمی کے لئے جامعہ بلوچستان سمیت تمام سب کیمپسزز میں مکمل تالا بندی اور امتحانات و ٹرانسپورٹ بند رہی ۔ اور بہت بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی جو جامعہ بلوچستان کے مختلف شعبہ جات سے ھوتے ھوئے سریاب روڈ پر ایک بڑی ریلی میں تبدیل ھوئی اور سریاب روڈ پر احتجاجی دھرنا دیا گیا اور آخر میں وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی جلسے میں تبدیل ھوئی مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں پرجوش نعرے بازی کی احتجاجی جلسہ زیرصدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ منعقد ہوا، احتجاجی جلسے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ ، فریدخان اچکزئی نعمت اللہ کاکڑ، گل جان کاکڑ، ، پروفیسر فرہانہ عمر مگسی،ڈاکٹر سعید احمد ایسوٹ، سیدشاہ بابر ،حافظ عبدالقیوم پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی اولس مینہ، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے شیر اکبر بلوچ، ریڈ ورکرز فرنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل کریم پرہر نے خطاب کیا،اور پروگریسو یوتھ الائنس کی زاہدہ وزیر، پشتونخوا میپ کی خواتین ونگ کی زرمینہ خپلواک، جویریہ بڑیچ ایڈووکیٹ، لاریب پشتنہ نے اظہار یک جہتی کے لئے شرکت کی۔ مقررین نے کہاکہ جب تک کوئی بھی صوبہ یا ملک تعلیم خاص کر اعلیٰ تعلیم پر توجہ نہیں دیتی اور ان کے لئے اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق جی ڈی پی کا 4 فیصد خرچ نہیں کرتی کسی صورت ترقی حاصل نہی کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان کے اساتذہ کرام اور ملازمین اپنی تنخواہوں کے لیے احتجاج پر مجبور ہیں لیکن نہ تو صوبائی حکومت نہ مرکزی حکومت اور نہ ایچ ای سی سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہیں اظہار یک جہتی کے لئے آئے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کرام اور ملازمین کی تنخواہوں کا بندوبست فوری طور پر اور مستقل حل کےلئے اقدامات اٹھائےجائے بصورت دیگر طلبا وطالبات سخت احتجاج شروع کرینگے۔ انہوں نے کہاکہ حیران کن امر ہے کہ جامعہ بلوچستان کے لئے فنڈز جاری نہیں کئے جارہے جبکہ دیگر تمام ڈیپارٹمنٹس خصوصا صوبائی سول سیکرٹریٹ کے آفیسران کے لئے تنخواہوں کے ساتھ ساتھ بے پناہ الاﺅنسسز دئے جارہے ہیں مقررین نے کہا کہ جامعہ بلوچستان کی مالی بحران کا واحد حل یہی ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر جامعہ بلوچستان کےلئے 2 ارب اور مرکزی حکومت 3 ارب روپے کا بیل آٹ پیکیج فراہم کریں اور انے والے سالانہ بجٹ میں صوبائی حکومت 10 ارب روپے گرانٹس ان ایڈز اور مرکزی حکومت 500 ارب روپے ملک بھر کی جامعات کے لئے مختص کریں جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا بروز جمعہ کو بھی جامعہ بلوچستان کو درپیش مالی بحران،خصوصا وائس چانسلر کی برطرفی و دیگر مسائل کے حل کےلئے جامعہ بلوچستان اور تمام سب کیمپسزز مکمل طور پر بند رہیگی اور احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں