خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی انتظامی ہٹ دھرمی سے مسائل کا شکار ہے، طلبہ کو ہراساں کرنا بند کیا جائے، گرینڈ الائنس

خضدار (انتخاب نیوز) خضدار انجینئر نگ یو نیورسٹی گرینڈ الائنس کے عہدہ داروں چیئر مین عثمان سلیم، محمد فاروق، گل شیر بگٹی صلاح الدین اور بالاچ نے خضدار پریس کلب میں پر یس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت بلوچستان کو تعلیمی میدان میں پیچھے رکھنے کی سازش ہورہی ہے ہمارے تعلیمی اداروں کو جو آٹے میں نمک کے برابر ہیں مختلف مسائل میں الجھایا جارہا ہے ان کے فنڈز روکنے ساتھ طلبہ کے لئے امتحان و غیر ہ میں مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ اس سا زشوں میں جہاں حکومتی پالیسیاں شامل ہیں وہاں پر ان سازشوں کا حصہ یہاں کے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور ہائر ایجو کیشن بھی ہے ان ناروا سلوک کی وجہ سے پہلے سے تعلیمی میدان میں پسماندہ صوبہ مزید تباہیوں کے دہانے پر پہنچ رہا ہے، بلوچستان یونیورسٹی مالی مشکلات کی وجہ سے گذشتہ دو ماہ سے بند پڑا ہواہے اسی طرح دیگر یونیورسٹیز کی حالت زار ہے اور یہی صورت حال انجینئرنگ یونیورسٹی اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کا ہے، بی یو ای ٹی خضدار بلوچستان کا واحد انجینئرنگ یونیورسٹی ہے جو گزشتہ کئی سال سے یونیورسٹی کے انتظامیہ کی ہٹ دہرمی، کرپشن اور دیگر انتظامی مسائل کا شکار ہے ان مسائل کی جب بھی ہم طلبہ نشان دہی کرتے ہیں تو انتظامیہ ہمیں خاموش کرانے کے لئے دھونس دھمکی پر اترتا ہے طلبہ کو ہراساں کیا جاتا ہے ان کے گھرفون کرنے ان کے فیملی کو پریشان کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم دہرے اذیت کے شکار ہیں ہمیں اس طرح کی نشان دہی کے بعد پیپرز میں فیل کیا جاتا ہے، وارڈ نز کے کے بے وقت ہاسٹلوں کے دورے کرائے جاتے ہیں، فیمیل اسٹو ڈنٹس کو ہراسان کیا جاتا ہے ان کو لائبریری اور اسٹیڈی کے لئے انٹر نیٹ کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی ہے، طلبہ پرسیاسی شعور کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں اسکا لر شپ میں بے ضا بطگیاں کی جاتی ہیں ان تمام مسائل و مشکلات کی وجہ سے ہم طلبہ مجبور ہو کر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور گذشتہ کئی روز سے ہم احتجاج کررہے ہیں لیکن یو نیورسٹی انتظامیہ ہمارے احتجاج اور مسائل کے شنوائی کے لئے ہر گز تیار دکھائی نہیں دے رہا ہے آج ہم اس لئے مجبور ہو کر پریس کانفرنس کررہے ہیں تاکہ ہم یونیورسٹی انتظامیہ کی ہٹ دہرمی سے صوبائی حکومت یونیورسٹی کے چانسلر گورنر بلوچستان کو آگاہ کریں اور اپنے جائز مطالبات ان لوگوں تک پہنچاسکیں ہمارا مطالبہ ہے یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کے ہراسان کرنے کا عمل ترک کردے، کنٹرولر ایگزامینشن کوطلبہ کے ساتھ غیر اخلاقی اور آمرانہ رویہ کی سبب جلد ازجلد اس عہدہ سے فارغ کردیا جائے، تعلیمی ادارے سیاست کے نرسریز ہوتے ہیں یونیورسٹی میں طلبہ کی بے جا سیاسی سرگرمیوں پر سے پابندی ہٹا دی جائے،فیمیل طلبہ کو اسٹیڈی کے لئے لائبریری اور انٹرنیٹ کی سہولت فوری طور پر فراہم کی جائے، سسٹم اپلائی نہ ہونے کی وجہ سے جو طلبہ پروموٹ نہیں کئے جارہے ہیں یا جن کے پیپر رپیٹ نہیں کئے جارہے ہیں انہیں پروموٹ اور ری پیپر کے لئے سپیشل پیپر رکھاجائے، سکالر شپ کو بحال کرکے اس میں شفافیت رکھا جائے ڈائریکٹ سکالر شپ کے لئے ایک شفاف کمیٹی بنائی جائے، ہاسٹلوں میں سے غیر ضروری کیمرے سرکٹ نکالے جائیں طلبہ کی ہاسٹلوں میں سرگرمیوں کا غیر ضروری نگرانی بند کیاجائے نیوز پیپرز سٹینڈ سمیت فراہم کئے جائیں، پروموشن فارم اور پراسپکٹس ہارڈ فارم طلبہ کو فراہم کئے جائیں، یونیورسٹی انتظامیہ پراسپکٹس کے مطابق اپنے انتظامی سرگرمیوں کو چلائے، سمسٹر فیسز کے لئے طلبہ کو تنگ کرنا بند کیا جائے، مڈٹرم ایگزام کو ری شیڈول کیا جائے بی یو ای ٹی طلبہ گرینڈ الائنس کے رہنماو¿ں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا اور انتظامیہ اپنا روش تبدیل نہیں کیا تو ہم اپنی احتجاج کو مزید وسعت دیں گے جس کے تمام تر ذمہ بی یو ای ٹی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں