کوئٹہ تا ژوب اور ڈی آئی خان شاہراہ پر حادثات روز کا معمول، ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے
ژوب (این این آئی) ژوب کوئٹہ اور ژوب ڈی آئی خان نیشنل ہائی وے روڈ پر موٹر وے پولیس کی عدم تعیناتی سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن حکومت کی جانب بلند وبانگ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ ژوب کے عوامی وسماجی حلقوں نے حکومت کی توجہ مذکورہ بالا کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ملک میں بم دھماکوں سے اتنے کثیر تعداد میں لوگ جاں بحق نہیں ہوئے ہیں جتنے ژوب کوئٹہ اور ژوب ڈی آئی خان روڈ پر ایکسیڈنٹ واقعات میں جاں بحق ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی عدم توجہی اور نااہلی کے باعث ژوب کوئٹہ اور ژوب ڈی آئی خان روڈ پر ایکسیڈنٹ واقعات ایک مامول بن چکا ہے جس سے اب تک ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ہزاروں بچے یتیم اور ہزاروں خواتین بیوا ہزاروں گھر اجڑ گئے ہیں جو حکومت کی عدم توجہی کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے ۔انہوں نے کہا کہ ژوب کوئٹہ اور ژوب ڈی آئی خان روڈ پر موٹر وے پولیس کی تعیناتی صرف کاغذوں تک محدود ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نیشنل ہائی وے پر موٹر وے پولیس کا کوئی نشان تک نہیں ہے ۔انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان میر قدوس بزنجو گورنر بلوچستان کورکمانڈر بلوچستان چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ مشیر اطلاعات حاجی مٹھا خان کاکڑ کمشنر ژوب ڈویژن سید عمرانی سے پرزور اپیل کی کہ ژوب کوئٹہ اورژوب ڈی آئی خان نیشنل ہائی وے روڈ پر موٹر وے پولیس کی تعیناتی کے عملی اقدامات اٹھائے بصورت دیگر ژوب کے عوام سخت ترین احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں جس کی تمام تر زمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔


