زمیندار ایکشن کمیٹی کااجلاس، بجلی کی 8 گھنٹے اور یوریا کھاد کی فراہمی کامطالبہ
کوئٹہ (یو این اے) زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کا اجلاس جنرل سیکرٹری حاجی عبد الرحمن بازئی کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں حاجی نوراحمد بلوچ، کاظم خان اچکزئی، حاجی شیر علی مشوانی،حاجی افضل دشت، خالق داد، عبد اللہ جان میر زئی، صادق کاکڑ، دوست محمد کٹکے زئی، ملک منظورنوشیروانی، حاجی عبدالمنان، اللہ نور پہلوان، نصیب اللہ مجک، عبدالقادر بدوزئی و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ، کھاد کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اجلاس میں صوبے کے جن علاقوں میں بلوں کی ریکوری زیادہ ہوں وہاں بجلی کی فراہمی 8 گھنٹے کم از کم 6 گھنٹے بجلی فراہمی یقینی بنایا جائے، یوریا کھاد کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کا سلسلہ جاری ہے زمیندار کھاد کی ایک ایک بوری کیلئے تگ و دو کرتے ہوئے بلیک میں خریدنے پر مجبور ہیں ایک طرف فصلات نقصان سے دو چار ہیں دوسری جانب کھاد کی روک تھام سے زمینداروں کو مشکلات کا سامنا ہے، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچر ڈویلپمنٹ کی جانب سے پاکستان میں رواں برس 5 سالہ پروگرام کے تحت غربت کی کمی اور غذائی تحفظ کو بڑھانے و موسمیاتی تبدیلی میں فوڈ سیکیورٹی میں اضافے کیلئے کنٹری اسٹریٹجک آپرچونیٹیز پروگرام کیلئے بلوچستان کے ضلع کی بنیاد پر نمائندگی یقینی بنایا جائے، اجلاس میں کہا گیا ہے کہ 80 فیصد ریکوری کے باوجود بجلی کی فراہمی اس طرح نہیں کی جا رہی جس طرح زمینداروں کے ساتھ طے کیا گیا تھا۔ زمیندار کھاد کیلئے جگہ جگہ سرگرداں ہیں بلوچستان کے ضلع لورالائی، قلعہ سیف اللہ، پشین، زیارت، خضدار، نوشکی و دیگر میں ژالہ باری اور بارشوں سے فصلات تباہ ہو گئے، حکومت فوری طور پر سروے کرکے زمینداروں کے نقصانات کا ازالہ کرے کیونکہ گزشتہ سال بھی بلوچستان میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصانات نے زمینداروں کو مالی مشکلات سے دو چار کردیا ہے اور اس سال بھی ژالہ باری سے فروٹس و سبزی کے فصلات تباہ ہوئے ہیں۔


