9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کیخلاف بلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرار داد منظور
کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی نے 9مئی کو پی ٹی آئی کے چےئر مین عمران خان کی گرفتاری کے ملک میں پر تشدد مظاہروں ،حساس سر کا ری ونجی املاک کو نذرآتش کر نے اور شرپسند عناصر کی جانب کور کمانڈر لاہور کے گھر میں توڑ پھوڑ اور جلاﺅ گھیراﺅ پشاور میں ریڈ یو پاکستان کی عمارت کو نظر آتش کر نے اور پر تشدد کاروائیوں میں قانون نافذ کر نے والے اداروں کے سینکڑوں آفیسران اور اہلکاروں کو شدید زخمی کرنے والے افراد کے خلاف فوری طوپر کاروائی عمل میں لانے کو یقینی بنانے کی مذمتی قرار داد منظور کرلی۔ پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی میر ظہور بلیدی نے مذمتی قرار داد پیش کرنے کی اجازت سے متعلق تحریک پیش کی ایوان کی جانب سے اجازت ملنے پر میر ظہور بلیدی نے مذمتی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ9مئی 2023کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی گر فتاری پر ان کے کار کنوں کی جانب سے پورے ملک میں پر تشدد مظاہروں جس میں حساس سر کا ری ونجی املاک کو نذرآتش کر نے اور شرپسند عناصر کی جانب کور کمانڈر لاہور کے گھر میں توڑ پھوڑ اور جلاﺅ گھیراﺅ پشاور میں ریڈ یو پاکستان کی عمارت کو نظر آتش کر نے اور پر تشدد کاروائیوں میں قانون نافذ کر نے والے اداروں کے سینکڑوں آفیسران اور اہلکاروں کو شدید زخمی کیا گیا اس طرح کے مناظر پاکستان کے عوام نے کبھی بھی نہیں دیکھے تھے ۔ ایمو لینسز سے مر یضوں کو اتار کر ایمبو لینسوں کو آگ لگائی گئی سر کا ری حکام کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ افواج پاکستان کے خلاف چند سو مسلح جتھوں کو اکسانے کی مذموم کو شش کی گئی جو کام ازلی دشمنی 75سال میں نہ سکا ان تخریب کاروں نے کر دکھایا جس پر یہ ایوان مذکورہ بالا واقعات پر نہ صرف پر زور الفاظ میں مذمت کر تاہے بلکہ وفا قی حکومت سے پر زور مطالبہ کر تا ہے کہ ان واقعات میں ملوث تمام تخریب کاروں کے خلاف فوری طوپر کاروائی عمل میں لانے کو یقینی بنائیں تاکہ یہ تخریب کار اپنے مذموم ایجنڈے میں کامیاب نہ ہوں ۔انہوں نے قرار داد کی موضونیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی نظام میں گرفتاریاں ہوتی ہیں ہمارے اکابرین نے بھی گرفتاریاں دیں پی ٹی آئی کے دور میں بھی اپوزیشن پر مقدمات بنا کر انہیں جیلوں میں ڈالا گیا ۔انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ ملک کی سالمیت اور املاک کو نقصان پہنچایا جائے حکومت جانے کے بعد عمران خان نے ملکی معاملات میں رخنہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے عمران خان بیرونی ایجنڈے پر کا رفرما ہیں اور ملک میں سیاسی انتشار پھیلا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک کا نظام مفلوج کردیا گیا ہے نظریاتی اور سرحدی محافظوں کو نشانہ بنا یاگیا قانون کا سربراہ بھی انکے ساتھ ہے اور عمران خان کو غیر ضروری رعایت دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے زیر استعمال جناح ہاﺅس کو بھی نذر آتش کیا گیا جو لوگ مسلح افواج کے افسران کو میر صادق اور میر جعفر کہہ رہے ہیں ان سے تفتیش اور کڑی کاروائی کی جائے ساتھ ہی ان کے ان بیانات کے مقاصد سے متعلق بھی تفتیش کی جائے کہ انہیں کونسی لابی سپورٹ اور کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کو تباہ کر نے کی ساز ش کی جارہی ہے آئین و قانون سے کوئی بالا تر نہیں ہے وفاقی حکومت کاروائی عمل میں لائے ۔قرار داد پر بات کرتے ہوئے بی این پی کے رکن اختر حسین لانگو نے کہا کہ اس موضوع پر بحث ہونی چاہےے تھی لیکن وزراءاور اراکین ایوان سے باہر چلے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دہرا معیار ملک کے مسائل جڑ ہے گرفتاری کے بعد عمران خان کو کسی تھانے یا جیل نہیں بلکہ پولیس گیسٹ ہاﺅس لے جایاگیا ہمارے لوگ جب گرفتار ہوتے ہیں تو وہ صیح سلامت واپس نہیں آتے عمران خان کے ساتھ مسئلہ الٹ ہوا اب وہ ٹھیک ہو کر آئے ہیں عدلیہ اس وقت پارٹی بن چکی ہے قانونی تقاضے پورے نہیں کئے جارہے عمران خان جیسی رعایت دیگر سیاسی کارکنوں کے لئے بھی دی جانی چاہےے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں آج عدلیہ کے خلاف دھرنے پر ہیں سپریم کورٹ کا دہرا معیارثابت ہوچکا ہے چیف جسٹس متنازعہ ہوگئے ہیں لہذا وہ مستعفی ہو جائیں ۔


