کوئٹہ شہر میں ٹریفک کی گمبھیر صورتحال، محتسب بلوچستان نے ٹریفک پولیس حکام کو طلب کرلیا
کوئٹہ :صوبائی محتسب بلوچستان نذر محمد بلوچ ایڈوکیٹ نے کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے گھمبیر صورتحال اور عوامی حلقوں کی جانب سے مختلف اوقات میں مقامی اخباروں اور سوشل میڈیا پر شہر میں ٹریفک جام کے پیچیدہ صورتحال کی نشاہدہی پر از خود نوٹس(سوموٹو ایکشن) لیتے ہوئے ٹریفک پولیس کے حکام بالا کو طلب کرلیا، صوبائی محتسب بلوچستان کے ترجمان کے مطابق صوبائی محتسب بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں ٹریفک جام کی بدترین صورتحال پر عوامی حلقوں کی جانب درخواست کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اس ضمن میں انہوں نے ڈائریکٹر انویسٹیگیشن محتسب سیکرٹریٹ عبدالمنان اچکزئی کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے متعلقہ محکمے سے ٹریفک جام مسئلے کے خاتمے کیلئے کی ےجانے والی اقدامات کے بارے میں باز پرس کریں ، صوبائی محتسب کے احکامات کی روشنی میں ڈائریکٹر انویسٹیگیشن نے نوٹس جاری کرتے ہوئے ایس پی ٹریفک سے وضاحت طلب کی، دریں اثناءایس پی پولیس ٹریفک سٹی کوئٹہ محمد جاوید ملک نے اپنے تفصیلی رپورٹ میں ٹریفک جام کے وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ کوئٹہ کا اندرون شہر جو زیادہ تر کمرشل ایریا میں تبدیل ہوچکا ہے جہاں 70 دہائی کے پرانے ٹرانسپورٹ جن میں بڑی بسیں شامل ہیں کی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ اگر ان بڑے بسوں کی جگہ جدید میڑو طرز کی بسیں متعارف کی جائیں تو اس سے ٹریفک جام کے مسئلے میں ایک حد تک کمی واقع ہوسکتی ہے، انہوں نے ٹریفک مسائل کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے مزید لکھا کہ تجاوزات، شاپنگ مالز اور بڑے بڑے پرائیویٹ ہسپتالوں میں پارکنگ سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بھی ٹریفک جام کے مسائل زیادہ ہو رہے ، رپورٹ میں انہوں نے کہا کہ شہر کے اندر موٹر گیراج، شورومز، آٹو اسپیئر پارٹس کی دکانوں پر کھڑی گاڑیاں بھی ٹریفک جام کی وجوہات میں شامل ہیں انہوں نے رائے دی کہ ٹریفک انجنئیرنگ بیورو کے قیام سے شہر میں ٹریفک جام کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ایس پی ٹریفک نے اپنے رپورٹ میں ٹریفک جام کے خاتمے کیلئے مختلف اور تجاویز شامل کیے جس سے شہر میں ممکنہ حد تک یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے، انہوں نے رپورٹ میں لکھا تھا کہ ٹریفک پولیس محدود وسائل اور نفری کم ہونے کے باوجود پوری مستعدی سے ٹریفک رواں رکھنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اگر ان کو اس حوالے سے مزید نفری مل جائے تو وہ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کیلئے زیادہ بہتر کارکردگی دیکھا سکتے ہیں، مزید برآں صوبائی محتسب نے ایس پی ٹریفک کے رپورٹ کی روشنی میں متعلقہ تمام محکموں اور خصوصاً ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور میڑو پولیٹن کوئٹہ کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ تجاوزات کے خاتمے، شاپنگ مالز اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں پارکنگ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کریں جبکہ مجوزہ پارکنگ پلازہ کی فوری تعمیر کے علاو¿ہ شہر میں موٹر سائیکل اور سائیکلوں کیلئے ایسے جگہوں پر اسٹینڈ بنائے جائیں جہاں ٹریفک کی روانی میں خلل نہ پڑ سکے، صوبائی محتسب نے ہدایت کی کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کیلئے ٹریفک پولیس بغیر کسی رعایت اور مصلحت کے سنجیدہ کوششیں شروع کر دے تاکہ لوگوں کا قیمتی وقت ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے بچ سکے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے حال ہی میں اسمبلی اجلاس کے دوران ٹریفک انجنئیرنگ بیورو کے قیام کی منظوری دی ہے جس پر باقاعدہ کام کا آغاز بھی ہوا ہے، انہوں نے اس ضمن میں تمام متعلقہ محکموں کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ ٹریفک جام کی صورتحال پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں انہوں وقتاً فوقتاً آگاہ کرتے رہیں۔


