پاک ایران گیس منصوبہ بھی جلد پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے، ڈپٹی قونصل جرنل کوئٹہ

کوئٹہ: کوئٹہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے ڈپٹی قونصل جرنل فریدون پیرلورن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو دوست، برادر اور ہمسایہ ممالک ایران اور پاکستان کے تعلقات میں آج ایک اہم پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ابراھیم رئیسی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے پشین، مند بارڈر پر مشترکہ سرحدی منڈی کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ دو سال قبل دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان تہران میں پاک ایران سرحد پر 6 مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام کے حوالے سے معاہدے کی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے جن میں سے پشین، مند، ریمدان، گبد اور کوہک، پنجگور کے مقام پر 3 سرحدی منڈیوں کا قیام عمل میں آیا اور پشین مند پہلی سرحدی منڈی ہے جسکا آج باقاعدگی سے افتتاح ہوا۔ افتتاح کے موقع پر ایرانی صدر اور پاکستانی وزیر اعظم کے علاوہ دونوں ممالک کے دیگر حکام بھی شریک تھے۔ اس کے علاوہ ایران سے گوادر کے لیے 100 میگاواٹ بجلی ترسیل کا بھی باقاعدہ افتتاح ہوا۔ فریدون پیر لورن نے مشترکہ سرحدی منڈی کے افتتاح اور 100 میگاواٹ بجلی کی ترسیل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بھی بہت جلد اپنے تکمیلی مراحل کو پہنچ جائے گا جو دونوں ممالک کے مابین ایک میگا پروجیکٹ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے پاکستان میں صنعتی انقلاب بھی آسکتا ہے۔ مشترکہ سرحدی منڈیوں کے افتتاح سے دونوں جانب سرحد پر رہنے والے عوام کی معیشت مضبوط ہوسکتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو فروغ دینے میں کافی زیادہ مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان مجموعی طور پر سالانہ تجارتی حجم ساڑھے دو (2.5) ارب ڈالر کے قریب ہے لیکن 5 ارب ڈالر کا جو ہدف تعین کیا گیا ہے اس کے تعاقب میں ہمیں مزید اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ دونوں ممالک کے پوٹینشل اور استعداد اس قدر زیادہ ہے کہ 5 ارب ڈالر کا سالانہ تجارتی حجم بھی کافی کم ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں کافی اہم مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن میں ایران اور سعودی عرب کے مابین خوشگوار تعلقات کی بحالی شامل ہے، جس سے پورا خطہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ایران اور پاکستان بھی اپنے اقتصادی تعاون اور معیشت کو مضبوط بنانے میں اس مثبت تبدیلی سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں