روس پر 300 سے زائد نئی پابندیاں، جوابی وار میں اوباما اور کئی صحافیوں سمیت 500 امریکیوں کے ملک میں داخلے پر پابندی

واشنگٹن(صباح نیوز) امریکہ نے روس کی دھوکہ دہی اور چوری، فوجی صنعتی سپلائی چین اور مستقبل میں توانائی کی آمدنی کے خلاف 300 سے زیادہ نئی پابندیوں کا اعلان کردیا۔ امریکہ نے جی سیون اسٹیک ہولڈرز اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رہنما اجلاس میں یوکرین کے ساتھ جنگ کے لیے روس کو جوابدہ ٹھہرانے کا عہد کیا۔ امریکہ کی نئی پابندیاں اسی عزم کو عملی جامہ پہنانے کا ایک حصہ ہیں۔امریکی وزیر خزانہ جینٹ ییلن نے کہا کہ "صدر پیوٹن کی غیر قانونی اور بلا اشتعال جنگ کے آغاز سے ہمارے عالمی اتحاد نے یوکرین کی حمایت پر توجہ مرکوز کی ہے اور روس کے حملے کی صلاحیت کو کم کیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہماری اجتماعی کوششوں نے روس کو اپنی فوج کو درکار کلیدی معلومات سے کاٹ دیا ہے ۔ کریملن کو اپنی جنگی مشین کے لیے فنڈز حاصل کرنے صلاحیت کو بہت حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔پابندیوں کی نئی لہر 22 افراد، 104 اداروں اور 20 ملکوں یا دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں کو نشانہ بناتی ہے۔ روس کے خلاف پابندیوں اور اضافی اقتصادی اقدامات کو روکنے کی کوشش کرنے والے اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح وہ چینل جن کے ذریعے روس اہم ٹیکنالوجی حاصل کرتا، توانائی کی آمدنی حاصل کرتا ہے ان کو بھی زد میں لایا گیا ہے۔مزید برآں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے تقریبا 200 افراد، اداروں، بحری جہازوں اور طیاروں کو بلاک شدہ جائیداد کے طور پر تسلیم کیا ہے۔دوسری جانب روس نے جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے مسلسل پابندیوں کے جواب میں سابق امریکی صدر باراک اوباما اور متعدد صحافیوں سمیت 500امریکیوں کے ملک میں داخلے پرپابندی عائد کردی۔امریکی میڈیا کے مطابق روسی پابندیوں کی فہرست میں سابق امریکی صدر باراک اوباما،امریکی میڈیاکے صحافی، متعدد امریکی سینیٹرز، سابق امریکی سفیر اور متوقع چیئرمین جوائنٹ چیفس بھی شامل ہیں۔اس حوالے سے روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ باراک اوباما سمیت 500 امریکیوں پر ملک میں داخلے پر پابندی روس مخالف اقدامات کا ردعمل ہے۔ روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ روس پر مسلسل پابندیاں عائد کر رہی ہے، امریکا کو یہ بات بہت پہلے سمجھنی چاہیے تھی کہ ہمارے خلاف ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں