مینگل اور لانگو قبائل کے مابین تنازع کے حل کیلئے عمائدین کو کردار ادا کرنا ہوگا، میر راحمین

قلات : مینگل اور لانگو قبائل کے مابین تنازعے کے حل میں اہم پیشرفت، مسئلہ جلد حل ہونے کا امکان، سردار زادہ میر راحمین محمد حسنی نے ڈی سی ہاوس قلات میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مینگل اور لانگو قبائل کے مابین غلط فہمی کی بنیاد پر تنازعے کے حل کیلئے اہم پیشرفت ہوئی ہے یہ پہلا قدم ہے، دونوں فریقین کی باتیں سن کر مسئلہ کرنے کیلئے اقدامات جاری رکھیں گے قبائلی تنازعہ کا حل اولین ترجیح ہے قبائلی عمائدین کو ملکر بلوچستان میں قبائلی تنازعات و رنجشوں کی حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اگر قبائلی تنازعہ صوبے میں چل رہے ہوں اور ہم بحیثیت قبائلی ذمہ دار اس پر خاموش رہے، تو یہ ہمیں زیب نہیں دیتا، صوبے اور علاقے میں قبائلی تنازعات کا حل ممکن بنا کر امن کے پیغام کو پھیلانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مختلف قبائلی تنازعات چل رہے ہیں ان کے حل کیلئے بہت کم کردار ادا کیا جاتا ہے، اسی طرح مینگل اور لانگو قبائل کے مابین غلط فہمی پیدا ہوئی تھی اور اس مسئلے اور غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے خان آف قلات کے صاحبزادے پرنس محمد خان احمد زئی کے سربراہی میں ایک وفد قبائلی رہنما میر قمبر خان مینگل کے گھر دشت گوران گیا وفد میں میر قمبر خان مینگل کی طرف سے پرنس آغا محمد خان احمد زئی، میر کوہی خان مینگل، میر جہانزیب خان مینگل، نوشکی سے مینگل قبیلہ کے تعلق رکھنے والے سرداران و معززین جبکہ میر ضیااللہ لانگو کی طرف سے میں سردار زادہ میر راحمین محمد حسنی، نوابزادہ گہرام خان بگٹی، سردار زادہ عارف جان محمد حسنی سردار بابر موسی خیل سمیت معززین و علاقہ کے سفید ریش شامل تھے یہ مینگل اور لانگو قبیلہ کے مابین چند سال قبل سے غلط فہمی کی بنیاد پر تنازعہ چلا آرہا ہے اس رنجش و اختلاف کے خاتمے کیلئے ہمارا آج یہ پہلا مرحلہ تھا جس میں میر قمبر خان مینگل نے قبائلی عمائدین و وفد کو عزت بخشی اور امید رکھتے ہے کہ اس رنجش کے خاتمے کیلئے دونوں فریقین فراخ دلی کا مظاہرہ کرکے ثالثین کیساتھ تعاون جاری رکھیں گے، ہم نے میر قمبر خان مینگل کی جانب سے انکی باتیں سنیں جبکہ اگلے مرحلے میں لانگو قبیلہ سے وفد مل انکو سنے گا اور انشا اللہ بہت جلد یہ مسئلہ حل کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں