درپیش مسائل اور مطالبات کی عدم منظوری کیخلاف بلوچستان بھر میں اساتذہ کا شدید احتجاج، تدریسی عمل کا بائیکاٹ
کوئٹہ، پنجگور، اوتھل، بولان، بیلہ، ژوب، (انتخاب نیوز) گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے22نکاتی ڈیمانڈ نوٹس پر عمل درآمدنہ ہونے کیخلاف بلوچستان بھر میں اساتذہ کے مظاہرے اور احتجاجی ریلیاں، بازوﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر بیوروکریسی کیخلاف شدید نعرے لگائے۔ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے22نکاتی ڈیمانڈ نوٹس پر عمل درآمدنہ ہونے کے خلاف جمعہ کو جی ٹی اے ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام ایک ریلی میونسپل کارپوریشن کے سبزہ زار سے نکالی گئی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب کوئٹہ پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کرگئی اساتذہ نے بیوروکریسی کے خلاف بھر پور نعرہ بازی کی اور اپنے مطالبات پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیاریلی کے شرکاء نے بینز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر جونیئر کیڈرز اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر‘ہیڈمسٹریس کی غیر مشروط اپ گریڈیشن کا نوٹیفکیشن، جونیئر کیڈرز کے اساتذہ کرام کی پروموشن، مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ، 2019 کے بعد نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کرام کیلئے ٹائم سکیل کے خاتمہ کا نوٹیفکیشن، پر میچور انکریمنٹ کی کٹوتی کا خاتمہ و دیگر نعرے درج تھے۔ ضلع لسبیلہ کے صدر مقام اوتھل میں گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن لسبیلہ کا اپنے جائز مطالبات کے حق اور ڈی ڈی او اوتھل نواجد حسین کے تبادلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔جس میں کثیر تعداد میں اساتزہ نے شرکت کی۔ ریلی ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کے دفتر سے شروع ہوئی۔ ریلی کے شرکاءنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ آٹھا رکھے تھے جن پر جونیئر کیڈرز کے اساتذہ کرام کی پروموشن میں رکاوٹیں دور کی جائیں، ٹیچنگ الاو¿نس کو دیگر اداروں کو ملنے والے پروفیشل الاو¿نس کے مساوی کرنے اور لسبیلہ کے تقدس و حرمت کو پامال کرنے والے ڈی ڈی او اوتھل نواجد حسین کا فوری تبادلہ کیا جائے و دیگر نعرے درج تھے ریلی جب پریس کلب پہنچی جہاں احتجاج کیا گیا بعدازں ریلی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی صوبائی کال پر چارٹر آف ڈیمانڈ نوٹس کی منظوری کیلئے صوبہ بھر کی طرح اساتذہ نے ضلع کچھی کے ہیڈ کوارٹر ڈھاڈر میں بھی پریس کلب ڈھاڈر کے سامنے ضلعی صدر منیراحمد رند کی قیادت میں ریلی نکالی اور احتجاجی مظاہرہ کیا شرکاءنے بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر مطالبات کے نکات درج تھے ریلی کے شرکاءسے ضلعی صدر منیراحمد رند ،جنرل سیکرٹری حاجی محمد الیاس کلواڑ سمیت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چارٹر آف ڈیمانڈ نوٹس کی منظوری میں حکومت وقت حیلے بہانے سے کام لے رہی ہے مطالبات منظور نہ ہوئے تو احتجاجی تحریک فیصلہ کن موڑ میں داخل ہوگی اور پانچ جون کو بلوچستان بھر کے اساتذہ جی ٹی اے بی کی پلیٹ فارم سے کوئیٹہ میں دھرنا دینگے جس کیلئے اساتذہ ہرقسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے جائز مطالبات جن میں سے بعض منظور شدہ ہیں جنکی تاحال نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا سمیت دیگر مطالبات کیلئے احتجاجی تحریک کو جاری رکھا جائیگا اساتذہ اپنے صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کریں اساتذہ کی نا اتفاقی کی وجہ سے بیوروکریسی اور حکومت وقت اساتذہ کو سڑکوں پر احتجاج کیلئے مجبور کرتی ہے استاذہ یونینز جی ٹی اے کے پرچم تلے متحد ہوں تاکہ حقوق کا حصول آسان ہو جائے۔ پنجگور گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی کے زیراہتمام 18 نکاتی مطالبات کے حق میں ماڈل ہائی سکول سے ایک ریلی نکال کر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیاگیا ریلی اور مظاہرے کی قیادت جی ٹی اے بی پنجگور کے ضلعی صدر فدااحمد جنرل سکریٹری ماسٹر محمد اکبر بلوچ ماسٹر عبدالجبار بلوچ مکران ڈویڑن کے رہنما غلام سرور اور دیگر نے کی جے ٹی اے بی کے رہنماﺅں نے مطالبات کے حق میں پلے کارڈ اور کتبے بھی اٹھارکھے تھے جن پر مختلف مطالبات درج تھے احتجاجی شرکاءسے جی ٹی اے بی پنجگور کے صدر فدااحمد بلوچ اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیچرز کو جان بوجھ کر دیوار سے لگایا گیا ہے انکے جائز مطالبات کو پس پشت ڈال کر انکو سڑکوں پر لاکر احتجاج پر مجبور کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ٹیچرز کا مقام معتبر ہے آج اگر کوئی جج سکریٹری ڈی سی اے سی اور دیگر اہم عہدوں پر برجمان ہے یہ سب ٹیچرز کی مرہون منت ہے اسکے باوجود ٹیچرز کے مسائل اور جائز مطالبات نظر انداز ہیں سب سے کم تنخواہ ایک ٹیچر کی ہوتی ہے اسکے باوجود وہ اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں مصروف عمل ہے ٹیچرز کے جائز مسائل جو قانونی اور جائز ہیں انکو حل کرنے کی بجائے طول دیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ایک معتبر پیشے سے منسلک ملازمین کو دیوار سے لگانے کا مقصد ایجوکیشن کے خلاف سازش ہے جس کا مقصد تعلیم کو مذید پستی کی طرف لیکر جانا ہے انہوں نے کہا کہ ٹیچرز کے ساتھ بیوروکریسی سمیت حکومتوں کا رویہ ہمیشہ منفی رہا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح پنجگور میں بھی سینکڑوں پوسٹیں مسنگ ہیں جو ٹیچر ریٹائرڈ یا فوت ہوجاتا ہے اس کے ساتھ وہ پوسٹ بھی ختم کردیا جاتا ہے جس سے مستقبل میں تعلیمی پستی اور زوال کا سبب بنے گا۔


