توبہ اچکزئی میں فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق اور زخمی ہونیوالوں کو انصاف دیا جائے، پشتونخوا میپ
چمن (آن لائن) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع چمن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ توبہ اچکزئی کنجوسی کاریز کے علاقے میں بھیڑ بکریاں مال مویشی چرانے والوں پر سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں عبدالرازق ولد نور محمد متکزئی جاں بحق جبکہ دیگر چار افراد لائن ولد صلاح الدین، محمد عالم ولد محمد طاہر علیزئی، فتح محمد ولد عبدالرشید اور حاجی لالا کے فرزند جو کہ شدید زخمی ہوئے تھے جو کہ آج بھی انصاف کے منتظر ہےں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ باڈر ٹریڈ ہمارے عوام کا ذریعہ معاش ہے ملک کے کسی دوسرے صوبے ، سرحدی علاقوں میں عوام کی آمدورفت ، تجارت ، ہینڈ کیری کسی بھی چیز پر پابندی نہیں جبکہ یہاں ہمارے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ برسانا انہیں شہیدوزخمی کرنا قابل مذمت اور قابل گرفت عمل ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس شدید مہنگائی کے دوران جب عوام پر روزگار کے دروازے بند کرنے کا مقصد شہر میں لاقانونیت ، بدامنی ، جرائم کو پروان چڑھانا اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے نوجوانوں کو گمراہ کرنا ہے ، شہر میں آئے روز اشیاءخوردنوش آٹا ، چینی ، مال مویشیوں (بیل ، بھیر بکریاں ) وغیرہ ، زمینداروں کیلئے کھاد سمیت ہر شے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے ، لاکھوں کی آبادی پر مشتمل چمن شہر کے عوام پر قلت خوراک مسلط کرنا ، ڈیورنڈ لائن کے کراسنگ پوائنٹس پر ہینڈ کیری سمیت ہر شے کی تجارت پر پابندیاں عائد کرنا یہ ہمارے عوام کی نسل کشی کے مترادف ہے جس کی پشتونخواملی عوامی پارٹی کسی کو اجازت نہیں دے سکتی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک جانب پرمٹ دیکر اپنے ایجنٹوں اور سہولت کاروں کے ذریعے ناجائز کاروبارکو پروان چڑھا یا جارہا ہے دوسری جانب غریب عوام ، تاجروں ، مزدوروں سے اپنے بچوں ، خاندان کی کفالت کرنے انہیں دو و قت کی روٹی دینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے ۔ پارٹی کا واضح موقف ہے کہ حکومت ، سیکورٹی فورسز ، کسٹم وتمام قانون نافذ کرنیوالے ادارے اسلحہ اورمنشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں قانون کے کٹہرے میں لائیں جبکہ دیگر تمام تجارت جو کہ باڈر ٹریڈ کا حصہ ہے جو کہ کئی دہائیوں سے جاری ہے پر کسی بھی قسم کی پابندی قابل قبول نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی پہلے بھی صوبائی حکومت ، آئی جی ایف سی اوردیگر سے توبہ اچکزئی کنجوسی کاریز کے افسوسناک واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرچکی ہے اور گزشتہ روز عظیم الشان احتجاجی مظاہرے میں بھی عوام نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر عبدالرزاق متکزئی اور دیگر زخمیوں کو انصاف فراہم کریں ۔


